Urdu

آسٹریلیا کا امیر ترین مسلمان جس نے کینسر کے مرض کے بعد ایسا کام کیا کہ ہر کوئی رشک کریں

علی بنات کا تعلق آسٹریلیا سے تھا جس کے پاس اپنا بنگلہ ، قیمتی گاڑیاں اور ہر طرح کے آسائش کا سامان تھا اس کی زندگی گزارنے کا طریقہ کسی بادشاہ کی طرح تھا اس  کے پاس دنیا کے مہنگے ترین جوتوں کے ساتھ قیمتی ہار ، گاڑی اور بہت کچھ تھا جس کی خواہش کوئی رئیس ہی کر سکتا ہے اس کی زبدگی بالکل عیاشیوں میں گزر رہی تھی  لیکن ایک دن اس کی زندگی بالکل  بدل گئی اور اس کی کایہ ہی پلٹ گئی ۔ ایک دن معمول کے چیکپر ڈاکٹر کے پاس گیا تو اسے خبر  ملی کہ اسے کینسر ہے اور وہ بہت جلد زندگی ہار جائےگا ۔ اس خبرنے اس کو

ہلا کر رکھ دیااور اس کو محسوس ہوا کہ یہ سب کچھ یہی پر رہ جائےگا اور کچھ بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر جا سکے گا ۔ اس  سوچ نے اس خبر نے اس کی زندگی کی کایا ہی پلٹ دی اور اس کو اللہ کے بالکل قریب کر دیا ۔ اس نے اپنی آخرت کو سنوارنے کا بہت اچھا کام شروع کر دیا اس نے اپنی ساری دولت اللہ کے راہ میں لٹانی شروع کردی ۔ڈاکٹروں  نے علی بنات کو صرف

7 ماہ کا وقت دیا تھا لیکن قدرت نے اسے 3 سال کی مہلت دی اس دوران اس نے ٹرسٹ بنایا جس کا مقصد افریقہ کے مسلم ممالک میں غریبوں کی مدد کرنا ، ہسپتال ، گھر ، اور مساجد بنانا تھا ۔ اس کے بنائے ہوئے ٹرسٹ براعظم افریقہ کے ساتھ آسٹریلیا کے اندر بھی مسلمانوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہی اس تنظیم کی وجہ سے کئی ہزار مسلمانوں کی ندگی بدل

گئی ۔ مرنے سے پہلے وہ ایک ہسپتال بنانا چاہتے ہیں لیکن موت نے مہلت  نہیں دی اور وہ چل بسے ۔ لیکن بہت سارے لوگوں کو اس کار خیر میں ڈال کر اس دنیا سے چلے ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ ان کا چھوڑا ہوا مشن پورا کرے گے

Comments

comments

آسٹریلیا کا امیر ترین مسلمان جس نے کینسر کے مرض کے بعد ایسا کام کیا کہ ہر کوئی رشک کریں
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top