Urdu

ائیرپورٹ پر سامان کی چیکنگ کے دوران مسافروں کی آنکھوں کے سامنے سے ان کا سامان چوری ہونا شروع ہوگیا، یہ کیسے کیا جاتا ہے؟ اگلی مرتبہ ائیرپورٹ جانے سے پہلے ضرور جان لیں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بس اڈوں پر تو مسافروں کا سامان چوری ہونے کے متعلق آپ نے سن رکھا ہو گا، اب ایئرپورٹس پر بھی یہ کام شروع ہو گیا ہے اور وہ بھی مسافروں کی آنکھوں کے سامنے۔ میل آن لائن کے مطابق اب تک صرف برطانیہ میں ایئرپورٹس پر درجنوں مسافروں کا سامان چوری ہونے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ یہ واردات اس وقت ہوتی ہے جب مسافر اپنا سامان سکیورٹی چیک کے لیے کنویئر بیلٹ پر رکھتے اور خود دوسرے راستے سے چیکنگ کے بعد آگے جاتے ہیں۔ ایئرپورٹس پر ہونے والی ان وارداتوں کے متاثرین میں دو خواتین انٹونیا کولنزاور فرنینڈا ارڈیلس بھی شامل ہیں۔

سینتیس سالہ انٹونیا چھٹیاں منانے کے لیے بیرون ملک جا رہی تھی اور اس نے چھٹیوں کے لیے کچھ مہنگے پرفیوم، شیمپو، سن کریم اور دیگر ایسی اشیاءخریدی تھیں۔ برطانیہ کے گیٹ وِک ایئرپورٹ پر اس نے یہ اشیاءایک شفاف پلاسٹک بیگ میں ڈالیں اور کنویئر بیلٹ پر رکھ دی۔ جب وہ اپنی چیکنگ کروانے کے بعد بیلٹ کے دوسرے سرے پر پہنچی تو اس کا باقی سامان موجود تھا جبکہ یہ پلاسٹک بیگ غائب ہو چکا تھا، انٹونیا کا کہنا ہے کہ جب اس نے ایئرپورٹ انتظامیہ کو اس واقعے کی رپورٹ کی تو انہوں نے بات سننے کی بھی زحمت نہیں کی۔ ان کے روئیے سے لگ رہا تھا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اسی طرح فرنینڈا نامی طالبہ کا لندن سٹی ایئرپورٹ پر 1ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 1لاکھ 53ہزار روپے) مالیت کا لیپ ٹاپ کنویئر بیلٹ سے چوری کر لیا گیا اور فرنینڈا کا بھی کہنا تھا کہ ایئرپورٹ سٹاف نے اس کے ساتھ انتہائی سرد مہری کا سلوک کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج تک دکھانے سے انکار کر دیا۔

ایک ایئرپورٹ سکیورٹی آفیسر نے کنویئر بیلٹ پر کھڑے ایک شخص کی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں وہ مسافروں کی نظروں کے سامنے ان کے سامان سے رقم اور دیگر اشیاءچوری کر رہا ہوتا ہے۔اس حوالے سے ایک حال ہی میں ایک سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایئرپورٹس پر سب سے زیادہ چوری ہونے والی اشیاءمیں موبائل فون، نقدی، لیپ ٹاپ اور زیورات شامل ہیں۔سروے رپورٹ میں ایئرپورٹس پر چوری کی بڑھتی وارداتوں کی وجہ چیکنگ سخت ہونے کے باعث مسافروں کی بھیڑ بتائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے واقعے سے پہلے ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پرایک گھنٹے میں اوسطاً 350افراد کی چیکنگ ہوتی تھی جو اب دہشت گردی کے خطرے کے باعث صرف150رہ گئی ہے۔ اس سخت چیکنگ کی وجہ سے مسافروں کا سامان کنویئر بیلٹ پر پہلے پہنچ جاتا ہے جبکہ مسافر خود تاخیر سے پہنچتے ہیں اور اس عرصے میں چور اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔

Comments

comments

ائیرپورٹ پر سامان کی چیکنگ کے دوران مسافروں کی آنکھوں کے سامنے سے ان کا سامان چوری ہونا شروع ہوگیا، یہ کیسے کیا جاتا ہے؟ اگلی مرتبہ ائیرپورٹ جانے سے پہلے ضرور جان لیں
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top