Urdu

اس فیکٹری میں دنیا کی وہ شرمناک ترین چیز تیار کی جاتی ہے،

جنسی گڑیاﺅں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ حقیقی نظر آنے والی گڑیائیں اور مصنوعی ذہانت سے لیس گڑیائیں بھی تیار کی جارہی ہیں لیکن صحافی جیمز ینگز کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی فیکٹری بچوں سے ملتی جلتی گڑیائیں بھی بنارہی ہو گی۔

جیمز ’بی بی سی تھری‘ کے لئے تیار کئے جانے والی ڈاکومنٹری ”سیکس روبوٹس اینڈ اس“ کی تیاری کے سلسلے میں ایک جاپانی فیکٹری کے دورے پر گئے جہاں ہزاروں کی تعداد میں جنسی گڑیائیں بنائی جارہی تھیں۔ جاپان کے نواحی علاقے میں قائم اس فیکٹری کے دورے کے متعلق جیمز نے بتایا ”یہ بہت بڑی فیکٹری تھی اور وہاں ہر جانب پلاسٹک اور دھات سے بنائی جانے والی جنسی گڑیائیں دیکھی جاسکتی تھیں۔ ایک فورمین مجھے مختلف قسم کی گڑیاﺅں سے متعارف کروارہا تھا۔ وہ مجھے فیکٹری کے ایک اور حصے میں لے کر گیا جہاں مختلف گڑیائیں تیاری کے مراحل میں تھیں۔بڑی گڑیائیں 45 کلوگرام کی تھیں لیکن مجھے ایک گڑیا کو دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی جس کا وزن بھی کم تھا اور وہ بہت چھوٹی تھی۔ مجھے یہ سمجھنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا کہ یہ گڑیا دراصل ایک بچے کی نقل تھی اور یہ سوچ کر مجھے بیک وقت بہت کراہت اور دکھ محسوس ہوا۔ میں نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی تاکہ وہاں موجودلوگوں کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھ سکوں لیکن میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ کس طرح کچھ لوگ بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسے ہوس پرستوں کی تسکین کے لئے مصنوعی گڑیائیں بنارہے ہیں۔ اگرچہ فیکٹری کے مالک نے وضاحت کی کہ یہ جنسی گڑیا صرف معصوم شکل میں بنائی جاتی ہے اور اس کی کوئی انسانی عمر نہیں ہوتی، لیکن اسے دیکھ کر آپ کے ذہن میں پہلا تصور ایک بچے کا ہی ابھرتا ہے۔ تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان گڑیاﺅں کے ذریعے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی؟“

Comments

comments

اس فیکٹری میں دنیا کی وہ شرمناک ترین چیز تیار کی جاتی ہے،
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top