Urdu

آج 21روزہ کے دن حضرت علیؓ کو کس نے اور کیوں شہید کیا؟

21 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﯾﻮﻡ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﮨﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﻣﻨﺎﻑ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ﺍﺑﻮﺍﻟﺤﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﺗﺮﺍﺏ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﺣﯿﺪﺭ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺑﻌﺜﺖِ ﻧﺒﻮﯼ ﺳﮯ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ۔

ﻮﺑﮑﺮ ، ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ ﺭﺍﺷﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﻧﻮ ﻣﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ۔ ﺁﭖ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ
ﺣﻘﯿﻘﯽ ﭼﭽﺎﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﺗﮭﮯ۔

حضرت علی کیسے شہید ہوئے؟

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں اس پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی پارٹی کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطامہ سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطامہ نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا جائے۔ ایک خارجی شبیب نے ابن ملجم کو روکا بھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز مسجد میں ادا کرتے ہوئے آپ پر حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔ اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔ خارجی عمرو بن بکر نے عمرو بن عاص کے دھوکے میں خارجہ کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وفات سے پہلے کچھ وقت مل گیا جسے آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرنے میں صرف کیا۔ جانکنی کے اس عالم میں بھی آپ نے جوباتیں ارشاد فرمائیں، وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ یہاں ہم طبری سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا: “میں تم دونوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے، اس پر رونا نہیں۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں سے شفقت کرنا، پریشان کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا۔

(تیسرے بیٹے) محمد بن حنفیہ سے فرمایا: “میں نے تمہارے بھائیوں کو جو نصیحت کی، تم نے بھی سن کر محفوظ کر لی؟ میں تمہیں بھی وہی نصیحت کرتا ہوں جو تمہارے بھائیوں کو کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں (حسن و حسین) کی عزت و توقیر کرنا اور ان دونوں کے اس اہم حق کو ملحوظ رکھنا جو تمہارے ذمہ ہے۔ ان کی بات ماننا اور ان کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ ”

پھر حسن و حسین سے فرمایا: “میں تم دونوں کو بھی محمد کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا بھائی اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے۔”

پھر خاص طور پر حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “میرے بیٹے! تمہارے لیے میری وصیت یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، نماز وقت پر ادا کرنا، زکوۃ کو اس کے مصرف میں خرچ کرنا، وضو کو اچھی طرح کرنا کہ بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی او ر زکوۃ نہ دینے والے کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔ ہر وقت گناہوں کی مغفرت طلب کرنا، غصہ پینا، صلہ رحمی کرنا، جاہلوں سے بردباری سے کام لینا، دین میں تفقہ حاصل کرنا، ہر کام میں ثابت قدمی دکھانا، قرآن پر لازمی عمل کرتے رہنا، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنا، نیکی کی تلقین اور برائیوں سے اجتناب کی دعوت دیتے رہنا اور خود بھی برائیوں سے بچتے رہنا۔”

جب وفات کا وقت آیا تو پھر یہ (قرآنی آیات پر مشتمل) وصیت فرمائی: “بسم اللہ الرحمن الرحیم! یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب نے کی ہے۔ وہ اس بات کی وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دیں، خواہ یہ بات مشرکین کو ناگوار گزرے۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبردار لوگوں میں سے ہوں۔

حسن بیٹا! میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دوسرے باہمی تعلق رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا نفل نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہے۔ ۔۔۔۔[1]

اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور بھی بہت سی نصیحتیں فرمائیں جن میں خاص کر نماز، زکوۃ، جہاد، امر بالمعروف کی نصیحت تھی۔


ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﮈﻟﯽ ﺩﺧﺘﺮ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻃﺎﻟﺐ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺻﺎﻑ ﺣﻤﯿﺪﮦ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻒ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻃﺎﻟﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺍﮨﻢ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺭﺿﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺳﯽ (ﻋﻠﯿﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ) ﻛﮯ ﻟﻴﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ (ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ) ﺗﮭﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ . ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ 4416 ﺟﻠﺪ 6 ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﮯ۔


ﺧﻮﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻣﺎﻥِ ﭘﺎﮎ ﯾﻮﮞ ﭘﯿﺶ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :

ﻭَﺍﻟَّﺬِﻱ ﻓَﻠَﻖَ ﺍﻟْﺤَﺒَّﺔَ ﻭَﺑَﺮَﺃَ ﺍﻟﻨَّﺴَﻤَﺔَ ، ﺇِﻧَّﻪُ ﻟَﻌَﻬْﺪُ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺍﻷُﻣِّﻲِّ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ
ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ، ﺇِﻟَﻲَّ ﺃَﻥْ ” ﻟَﺎ ﻳُﺤِﺒَّﻨِﻲ ﺇِﻟَّﺎ ﻣُﺆْﻣِﻦٌ ، ﻭَﻟَﺎ ﻳُﺒْﻐِﻀَﻨِﻲ ﺇِﻟَّﺎ ﻣُﻨَﺎﻓِﻖ ” .

ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﮭﺎﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍُﻣﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺎﮐﯿﺪﺍً ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﻮﻣﻦ ﮨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻐﺾ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﯾﻤﺎﻥ : ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﺎﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺭﻓﯿﻖ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﺍﻣﯿﻦِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﮨﮯ :

ﺇِﻥَّ ﻋَﻠِﻴًّﺎ ﻣِﻨِّﻲ ﻭَﺃَﻧَﺎ ﻣِﻨْﻪُ , ﻭَﻫُﻮَ ﻭَﻟِﻲُّ ﻛُﻞِّ ﻣُﺆْﻣِﻦٍ ﺑَﻌْﺪِﻱ

ﻋﻠﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﮨﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ
ﺩﻭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ﺗﺮﻣﺬﯼ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ :

ﻣَﻦْ ﻛُﻨْﺖُ ﻣَﻮْﻟَﺎﻩُ ﻓَﻌَﻠِﻲٌّ ﻣَﻮْﻟَﺎﻩُ

ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﯽ
ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺗﺮﻣﺬﯼ ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ : ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﺫﮨﻦ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻧﺎﺯﯾﺒﺎ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﻨﺒﺮ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﭩﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ! ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻓﺎﺿﻞ ﻣﻮﻣﻦ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺑﻐﺾ ﻭ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﻕ ( ﺑﺪﻣﺬﮨﺐ ) ﮨﻮﮔﺎ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻘﺮﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﻐﺾ ﻭ ﻧﻔﺮﺕ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔

ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﻭﺯﯾﺮﻭﮞ ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺳﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺎﺯﯾﺒﺎ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻻﺗﻌﻠﻖ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺰﺍ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔

ﮐﻨﺰﺍﻟﻌﻤﺎﻝ : ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﻧﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ :

ﺍﻗْﻀُﻮﺍ ﻛَﻤَﺎ ﻛُﻨْﺘُﻢْ ﺗَﻘْﻀُﻮﻥَ ﻓَﺈِﻧِّﻲ ﺃَﻛْﺮَﻩُ ﺍﻟِﺎﺧْﺘِﻠَﺎﻑَ ﺣَﺘَّﻰ ﻳَﻜُﻮﻥَ ﻟِﻠﻨَّﺎﺱِ ﺟَﻤَﺎﻋَﺔٌ ﺃَﻭْ ﺃَﻣُﻮﺕَ ﻛَﻤَﺎ ﻣَﺎﺕَ ﺃَﺻْﺤَﺎﺑِﻲ

ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ
ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ( ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﻭ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ) ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ :

ﻳَﺮَﻯ ﺃَﻥَّ ﻋَﺎﻣَّﺔَ ﻣَﺎ ﻳُﺮْﻭَﻯ ﻋَﻦْ ﻋَﻠِﻲٍّ ﺍﻟْﻜَﺬِﺏُ

ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ (ﺷﯿﺨﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻣﯿﮟ ) ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﻄﻌﺎً ﺟﮭﻮﭨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ، ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻟﻨﺒﯽ : ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺍﻭﺻﺎﻑِ ﺣﻤﯿﺪﮦ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﻣﺜﻼً ﺍﻣﺎﻧﺖ ﻭ ﺩﯾﺎﻧﺖ ، ﺯﮨﺪ ﻭ ﺗﻘﻮﯼٰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻟﺴﺎﻥِ ﻧﺒﻮﯼ (ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ) ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭﺳﻠﻢ ، ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ، ﻋﻤﺮ ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ، ﻋﻠﯽ ، ﻃﻠﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﯿﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺮﺍﺀ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻥ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺁﭖ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

ﺍﺳْﻜُﻦْ ﺣِﺮَﺍﺀُ ، ﻓَﻤَﺎ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺇِﻟَّﺎ ﻧَﺒِﻲٌّ ، ﺃَﻭْ ﺻِﺪِّﻳﻖٌ ، ﺃَﻭْ ﺷَﻬِﻴﺪٌ

ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺭﮨﻮ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ، ﺻﺪﯾﻖ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ
ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ، ﻛِﺘَﺎﺏ ﻓَﻀَﺎﺋِﻞِ ﺍﻟﺼَّﺤَﺎﺑَﺔِ :

ﮐﻮﻓﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﻠﺠﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺷﺒﯿﺐ ﺍﺑﻦ ﺑﺠﺮﮦ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﭘﺮ ﻗﺎﺗﻼﻧﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﺎﺭﯼ ﺯﺧﻢ ﺁﯾﺎ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ 62 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ 21 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 40 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﮯ ﻋﺰﻣﯽ ﻧﺎﻣﯽ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﺩ ﺧﺎﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨہ

Comments

comments

آج 21روزہ کے دن حضرت علیؓ کو کس نے اور کیوں شہید کیا؟
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top