Urdu

ایک بدکردار لڑکے کی توبہ کا عجیب قصہ

اللہ کی رحمت بے حد وسیع ہے اور اپنے بندوں‌کی بخشش کے لئے بہانے ڈھونتا ہے اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب کوئی اس کا گناہگار بندہ یا بندی اس کے حضور آئے اور اس سے توبہ کریں معافی مانگےاپنے گناہوں‌پر شرمندگی کا اظہار کریں تا کہ میں اسے اپنی رحمت کی وسیع چادر میں‌لے سکوں اور اسے جہنم کا ایندھن بننے سے بچا سکوں. یو ں تو ایسے بہت سارے واقعات مشہور ہے جس میں اللہ نے اس وقت کے بے حد گناہگاروں کو ان کی ایک دفعہ معافی مانگنے کی وجہ سے نہ صرف معاف کر دیا بلکہ اسے وقت کا ولی بنا ڈالا . لیکن آج ہم آپ کو ایک نوجوان کا قصہ سناتے ہیں جو بے‌حد بد کار اور گناہ کیا کرتا تھا . لیکن اس کی عجیب عادت تھی کہ وہ سب گناہ اپنی ایک ڈائری میں‌لکھا کرتا تھا . اور ایک دن اس سے نیکی ہوئی تو اس نے وہ بھی لکھ ڈالی . پھر کیا ہوا پڑھے اس ایمان افروز کہانی میں‌

ایک نوجوان نہایت بدکار تھا لیکن جب وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا اسکو کاپی میں نوٹ کر لیتا تھا. ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک عورت نہایت غریب اس کے بچے تین دن سے بھوکے تھے وہ اپنے بچوں کی پریشانی برداشت نہ کر سکی تو اس نے اپنے پڑوسی سے ایک عمدہ ریشم کا جوڑا ادھار لے لیا وہ اسے پہن کر نکلی تو اس نوجوان نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا جب اسکے ساتھ بدکاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت روتے ہوئے تڑپنے لگی اور کہا میں فاحشہ یا زانیہ نہیں ہوں میں بچوں کی پریشانی کی وجہ سے اس طرح نکلی ہوں. جب تم نے مجھے بلایا تو خیر کی امید ہوئی. اس نوجوان نے اسے کافی درہم دئے اور رونے لگا اور گھر آ کر اپنی والدہ کو پورا واقعہ سنایا. اسکی والدہ اسکو ہمیشہ معصیت “برائی” سے روکتی منع کرتی تھی


آج یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور کہا بیٹا تو نے زندگی میں یہی ایک نیکی کی ہے اسکو بھی اپنی کاپی میں نوٹ کر لے بیٹے نے کہا کاپی میں اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے والدہ نے کہا کاپی کے حاشیہ پر نوٹ کر لے چناچہ حاشیہ پر نوٹ کر لیا اور نہایت غمگین ہو کر سو گیا. . جب بیدار ہوتا تو دیکھا پوری کاپی سفید اور صاف کاغذوں کی ہے کوئی چیز لکھی ہوئی باقی نہیں رہی صرف حاشیہ پر جو آج کا واقعہ نوٹ کیا تھا وہی باقی تھااور کاپی کے اوپر کے حصہ میں ایک آیت لکھی ہوئی تھی. یشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں.اس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی اور اسی پر قائم رہ کر مرا

Comments

comments

ایک بدکردار لڑکے کی توبہ کا عجیب قصہ
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top