Urdu

ایک متکبر بڑھیا کا قصہ

اللہ کا فرمان ہے کہ غرور میری چادر ہے جو اسے اپناتا ہے تو گویا میری چادر کھیچنے کی کوشسش کرتا ہے .اسی وجہ سے اسلام میں‌غرور کرنے کو سخت نا پسند کیا گیا ہے اور انسان کو اپنے اوقات میں‌رہنے کا حکم دیا گیا ہے ،اور ہمارہ مشاہدہ ہے کہ کسی بھی وجہ سے غرور کرنے والوں کا انجام بے حد برا ہوتا ہے . اور ان کی چار دن کی زندگی میں‌ہی ان کو اس کا سبق مل جاتا ہے اور ایسا ملتا ہے کہ سارا غرور ہی زمین بوس ہو جاتا ہے . آج آپ کو ایک ایسے ہی خاتون کا قصہ سناتے ہیں‌جو کہ متکبر تھی پھر اس کے ساتھ کیا ہوا یہ جاننے کے لئے قصہ پڑھیں

ایک بُڑھیا اپنے بیٹے کارشتہ دیکھنے لڑکی والوں کے گھر گئیاس کو اپنے بیٹے کےلئے لڑکی دیکهتے ہوئے یہ تقریبآ ساتواں گهر تها،آج اس کے ساتهہ اس کی اپنی بیٹی بهی تهی،چائے میں بسکٹ ڈبوتے ہوئے بڑهیا نے اپنی بیٹی سے آہستہ سے پوچها، بیٹی نے جواب دیا اماں مجهے تو بہت پسند ہے،بڑهیا بولی بیٹا پسند تو مجهے بهی بہت ہے مگر،مگر کیا اماں،بڑهیا نے ترچهی نگاہ سے پاس بیٹهی ماں بیٹی کو دیکها جن کے ہاں وہ رشتے دیکهنے آئ تهی اور طنزیہ لہجے میں بولی لڑکی تو مجهے بهی بہت پسند ہے۔مگر ان کے حالت اور غریبی دیکهہ کے لگتا ہے کہ یہ تو ہماری بارات کو کهانا بهی نہیں دیے سکیں گے، اور ہم اپنے مہمانوں کے سامنے شرمندہ ہوں گے میں اپنے رشتہ داروں کو کیسے بتاوں گی کہ یہ ہمارے نئے رشتہ دار ہیں،

اتنا کہہ کر بڑهیا اپنی بیٹی سےبولی اٹهو چلیں یہ ہمارے سٹیٹس کے نہیں ہیں،بڑهیا نے محض ایک بات کی تهی مگر اس ماں بیٹی کو تو باتوں سے ہی خنجر مار کر چهلنی کر دیا تها،وہ دونوں تو دل ہی دل میں اپنی بے بسی اور غریبی پر رو رہیں تهیں،بڑهیا صدیوں یاد رہنے والی باتیں بڑے دهیمے لہجے میں سنا کر چلی گئ،وقت گزرتا گیا،۔آج اسی بڑهیا کو میں بہت سالوں بعد فون کر کے حال پوچها، مگر آج بڑهیا کے لہجے میں طنز نہیں تها، آج وہ والی بڑهیا کہ آواز نہیں تهی، آج وہ شہرت والا لہجہ نہیں تها، آج وہ غرور خاک میں مل گیا تها،پوچها بڑی بی،آج اداس لگ رہی ہیں،آپ کو بیٹے کےلئے بہو تو مل گئ نا اونچے خاندان کی جنہوں نے بارات کو اچها کهانا دیا ہو،؟؟

اتنا کہنا تها تو اس کی زبان جیسے گنگ ہو کر رہ گئ، آج اس کی سسکیاں نکل رہیں تهیں،سسکیاں لیتے ہوئے بولی بیٹا،امیر فیملی کی بہو بهی مل گئ تهی، بارات کو کهانا بهی اچها دیا تها، رشتہ داروں میں میری عزت بهی بڑهی تهی، مگرآج میرا بیٹا بهی نہیں میرے پاس میرا پوتا بهی نہیں میرے پاس،بہو کہتی ہے تمہارے اس گاوں میں میرے بچوں کا دم گهٹتا ہے، ان کی پرورش اور تعلیم میں خلل آئے گا، اور میرے رشتہ دار آتے ہیں تو مجهے شرم آتی ہے ان کو اس گهر میں لاتے ہوئے،اور وہ میرے بیٹے کو لے کر بڑے شہر چلی گئ ہے

اب تو میرا بیٹا فون بهی نہیں کرتا ترس جاتی ہوں کہ اپنے بیٹے کو دیکهوں اپنے پوتے کو دیکهوں مگر وہ تو سالوں بعد بهی نہیں آتے،جس کا کوئ نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے اور وہ بہترین انتقام لینے والا ہے اور وہ غریبوں کہ سنتا ضرور ہے، اس کے بعد بڑهیا رو رہی تهی اور میری کال بند ہو گئ،اپنے لہجوں سے کسی غریب و لاچار کو چهلنی مت کرو، آہ سے ڈرو اور یاد رکهو اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے،

Comments

comments

ایک متکبر بڑھیا کا قصہ
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top