Urdu

ایک مرتبہ خان صاحب نماز پڑھ رہے تھے، سلام پھیرا تو ریحام خان کیا کام کررہی تھیں کہ دیکھ کر غصے سے آگ بگولا ہوگئے، معروف صحافی نے انتہائی حیران کن واقعہ سنادیا

لاہور(ویب ڈیسک) ریحام خان اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان علیحدگی ہونے کے بعد خاتون کی مبینہ کتاب منظرعام پرآنے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپاہے اورمختلف شخصیات مختلف قصے بیان کررہے ہیں اور اب سینئر کالم نویس جاوید چوہدری نے لکھاکہ عمران خان کو اس کی تین عادتیںبھی بری لگتی تھیں‘ یہ خان کا موبائل فون چیک کرتی تھی‘ خان کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا‘ خان صاحب ایک دن نماز پڑھ رہے تھے‘ سلام پھیرا تو دیکھا ریحام خان ان کا موبائل کھول کر بیٹھی ہے‘ خان صاحب غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں چنانچہ اس دن دونوں کے درمیان خوفناک لڑائی ہوئی‘ یہ موقع اس کے بعد بار بار آتا رہا‘ عمران خان نے کئی بار اپنا موبائل دیوار پر مار کر توڑ دیا‘ ریحام خان کے بچے بھی بنی گالہ میں رہتے تھے‘ خان صاحب ان بچوں کے ساتھ بھی خوش نہیں تھے‘ خان کی بہنیں‘ جمائما خان اور دونوں بیٹے بھی اس شادی پر ناراض تھے۔

روزنامہ ایکسپریس کیلئے لکھے کالم میں جاوید چوہدری کاکہناتھاکہ ’خان پر یہ بھی دباؤتھا‘ دوسرا ریحام خان سیاست میں بلاوجہ دخل دے رہی تھی‘ یہ پارٹی کی میٹنگوں میں بیٹھ جاتی تھی‘ یہ خان کے ٹویٹر اکاو¿نٹ پر ٹویٹس کر دیتی تھی‘ یہ پارٹی کی خواتین کو مشکوک نظروں سے دیکھتی تھی‘ یہ انھیں بے عزت کر کے نکال بھی دیتی تھی‘ اسے جلسوں سے خطاب کا شوق بھی تھا‘ یہ زبردستی جلسہ گاہوں میں پہنچ جاتی تھی‘یہ وہاں تقریر بھی کر دیتی تھی اور یہ این اے 120 کے انتخابی جلسے میں بھی پہنچ گئی۔

عمران خان کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا لیکن یہ رکنے کے لیے تیار نہیں تھی‘ یہ گھر نہیں بیٹھ سکتی تھی چنانچہ دونوں کے درمیان تصادم خوفناک ہوتا چلا گیا اور تیسری وجہ ریحام نے پارٹی کے لوگوں کو براہ راست حکم دینا شروع کر دیا تھا مثلاً فیس بک اور ٹویٹر پر فالورز بہت کم تھے‘ ریحام خان نے عثمان ڈار کو کہا‘ عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں پارٹی کا سوشل میڈیا یونٹ بنا رکھا ہے‘ عثمان ڈار نے اسے ایک ملین فالورز خرید دیے‘ یہ ان دنوں فلم بھی بنا رہی تھی۔

شنید تھا ریحام نے فیصل واڈا سے فلم کے لیے رقم لی ‘ یہ پارٹی کے لیے عہدیداروں کی میٹنگ بھی بلا لیتی تھی‘ یہ کے پی کے میں دورے بھی شروع کر دیتی تھی اور یہ وزیراعلیٰ اور وزراءکو احکامات بھی جاری کر دیتی تھی‘ عمران خان کے لیے یہ بھی قابل قبول نہیں تھا چنانچہ دونوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوئیں اور یہ بڑھتی چلی گئیں‘ لڑائیوں کا کلائمیکس ستمبر 2015ءمیں ہوا‘ ریحام خان نہانے کے لیے باتھ روم میں تھی‘یہ باہر آئی تو عمران خان جہانگیر ترین کے ساتھ مشورہ کر رہا تھا” میں کیا کروں‘ میری اس سے جان چھڑاؤ“ ریحام خان کے بقول” میں آدھ گھنٹہ چھپ کر دونوں کی گفتگو سنتی رہی‘ میری برداشت جواب دے گئی تو میں باہر آ ئی اور پھٹ پڑی“ یہ لڑائی خوفناک تھی۔

عمران خان نے اس لڑائی کے بعد اسے طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر لوگ درمیان میں پڑے‘ انھوں نے خان کو سمجھایا‘ آپ اسے صرف گھر تک محدود کردیں‘ طلاق نہ دیں‘یہ طلاق آپ کے امیج کے لیے بہتر نہیں ہو گی‘ان لوگوں نے نتھیا گلی میں دونوں کی ملاقات بھی کروائی ‘ معاملات سیٹل ہو گئے لیکن یہ بندوبست زیادہ دنوں تک نہ چل سکا یہاں تک کہ عارف نظامی نے 23ستمبر2015ءکو اپنے پروگرام میں دونوں کے درمیان طلاق کا دعویٰ کر دیا‘ ریحام کا خیال ہے یہ خبر جہانگیر ترین نے عارف نظامی کو دی تھی۔

ریحام خان 28 اکتوبر 2015ءکو لندن میں مبین رشید کی میڈیا کانفرنس میں مدعو تھی لیکن 28 اکتوبر کی رات اس کی عمران خان کے ساتھ خوفناک جنگ ہوئی‘ ریحام نے گھر کی بے شمار چیزیں توڑ دیں‘ یہ بنی گالہ سے نکلی‘ رات راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں گزاری اور 29 اکتوبر کی صبح برمنگھم کی فلائیٹ لے لی‘ یہ جاتے ہوئے عمران خان کا بلیک بیری بھی ساتھ لے گئی ‘ یہ سہ پہر تین بجے برمنگھم پہنچی اور اترتے ہی عمران خان کے دوست ذلفی بخاری کو فون کیا۔

ذلفی بخاری بعد ازاں عمران خان اور ریحام کے درمیان رابطہ بنا‘ خان نے ریحام کی جیولری بھی ذلفی بخاری کے ذریعے لندن بھجوائی تھی جب کہ بنی گالہ سے ریحام کا سامان اس کا بھانجا یوسف خان لے کر گیا‘ عمران خان نے 29 اکتوبر کو نعیم الحق کے ذریعے طلاق کی خبر نشر کرا دی‘ خان کا خیال تھا ریحام لندن میں ”نیا شوشا“ چھوڑ دے گی چنانچہ طلاق کی خبراس کے شوشے سے پہلے سامنے آجانی چاہیے۔

ریحام نے ذلفی بخاری کے ذریعے وعدہ کیا ”میں خاموش رہوں گی“ لیکن پھر اس نے 15نومبر 2015ءکو سنڈے ٹائم کو انٹرویو دے کر یہ وعدہ توڑ دیا جس پر ذلفی بخاری نے اسے پیغام دیا ”آپ اگر میری سگی بہن ہوتی تو میں تمہیں گولی مار دیتا“ ریحام بار بار ”مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں“ کا دعویٰ اس پیغام کی بنیاد پر کر رہی ہے۔

ریحام خان کی کتاب تیار ہے‘ یہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں آئے گی‘ کیا اس نے اس کتاب میں عمران خان کے بلیک بیری کے پیغامات‘ تصویریں‘ فوٹیج اور ای میلز بھی شامل کی ہیں‘ یہ ایک بڑا سوال ہے‘ اس سوال کا جواب کتاب ہی دے سکتی ہے‘اگر بلیک بیری کا مواد کتاب میں شامل ہے تو پھر عمران خان کی ساکھ کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچے گا اور ریحام نے اگر یہ مواد اپنی اگلی کتاب کے لیے سنبھال لیا ہے تو پھر عمران خان سے زیادہ عون چوہدری‘ نعیم الحق‘ مراد سعید اور جہانگیر ترین اس کتاب کا وکٹم بنیں گے،یہ جہانگیر ترین کے بارے میں خوفناک انکشافات کرے گی‘۔

Comments

comments

ایک مرتبہ خان صاحب نماز پڑھ رہے تھے، سلام پھیرا تو ریحام خان کیا کام کررہی تھیں کہ دیکھ کر غصے سے آگ بگولا ہوگئے، معروف صحافی نے انتہائی حیران کن واقعہ سنادیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top