Urdu

ایک چوہڑا کیسے پڑھ لکھ کر محنت کر کے امیر آدمی بن گیا ؟

چوہڑا مسلی شاید ہمارے معاشرے کا سب سے نچھلا طبقہ ہے جو اپنی معاشرت کی وجہ سے لوگوں میں پسند نہیں کیا جاتا اور یہ زیادہ تر ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں عام آبادی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہاں کوئی رہنا پسند کرتا ہے اکثر ان کی جونپڑیاں نالوں کے اردگرد آباد ہوتی ہے ۔ ان کو روزگار کچرہ چننا ، صفائی کرنا ہوتا ہے لیکن ان میں سے اکثریت ایسی بھی ہوتی ہے جو کہ جسم فروشی میں ملوث ہوتی ہے اور منشیات کو  دھندہ بھی کرتی ہے ۔ ان لوگوں کو معاشرے میں اچوت سمجھا جاتا ہے اور عام لوگ ان کے ساتھ روابط رکھنا پسند

(جاری ہے)

نہیں کرتے ۔ سکول اور بنیادی تعلیم سے نابلد ہوتے ہیں ۔ اور نہ ہی کسی قسم کی معاشرتی اخلاق و آداب ان کو روا ہوتی ہے لیکن ان میں بھی ایسے لوگ ہیں جو کہ اس طرح کی بکھری ہوئی خاندانی نظام کے باوجو دپڑھ لکھ کر امیر آدمی بن چکے ہیں ان میں سے ایک ساحر بھی ہے جو کہ اس وقت امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور ایک تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ امیر آدمی ہے ۔

(جاری ہے)

ساحر بتاتے ہیں کہ میرے بچپن کا آغاز کوڑا چننے سے ہوا تھا۔ میں پاکستان میں جولوگ جھونپڑی میں رہتے ہیں انہی میں سے ایک ہوں، میرے ابو گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور امی لوگوں کےگھروں میں بطور ماسی کام کرتی ہیں۔ میرے اندر بچپن سے ایک ’’بری عادت ‘‘تھی کہ مجھے پڑھنے کا شوق تھا  اس شوق کی وجہ سے میں نے سکول میں خود سے داخلہ لیا ۔ صبح نہار اٹھ کر کام کرتا پھر سکول جاتا ۔ انگلش میں مہارت حاصل کی تو اپنوں کلاس فیلو کو ٹیوشن پڑھانی شروع کردی اس سے آمدن زیادہ ہوئی تو میٹرک کے بعد اکاونٹنٹ کسی نا کسی طرھ

لکھ پڑھ کے بن گیا اس کے بعد سکالر شپ پر امریکہ جانا ہوا جہاں میری بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی گئی اور آج میں ایک انتہائی اچھی پوسٹ پر کام کر رہا ہو جب کہ اس کے ساتھ اپنی پی ایچ ڈی بھی کر رہا ہوں ۔ اور میری کوشش ہے کہ میں اپنی کمیونٹی کے لئے کچھ کروں اور اس کے ساتھ میری سب سے بڑی خواہش ان کے لئے ٹیکسی باتھ روم کو بندوست کرنا ہے کیونکہ باتھ روم کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہماری کمیونٹی کو بہت زیادہ بیماری ا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے میری کوشش ہے کہ ان کے لئے کوئی موبائل باتھ روم کا بندوبست کیا جا سکے

Comments

comments

ایک چوہڑا کیسے پڑھ لکھ کر محنت کر کے امیر آدمی بن گیا ؟
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top