Urdu

بانجھ پن کی وجہ سامنے آگئی ۔ سائنسی تحقیق نے سب کچھ سامنےلا دیا

مردوں کی بنسبت عورتوں میں بانجھ پن کی بیماری زیادہ ہوتی اور اس کی وجہ ان کے ہارمون کا سسٹم ہے اور اس کے ساتھ ان کی جسمانی بناوٹ بھی اس میں شامل ہے جس کی وجہ سے انہیں بانجھ پن کا زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔ عورتوں میں بانجھ پن کی کچھ اقسام ایسی ہے جو کہ قابل علاج ہے لیکن کچھ ایسی اقسام ہے جو کہ لا علاج ہوتے ہیں ۔ بانجھ پن کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہے جس میں سب سے اہم وجہ رحم میں ریشوں کا بڑھ جانا ہوتا ہے جسے عموما رسولی کہا جاتا ہے ، لیکن نئی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بانجھ میں زیادہ دخل خوراک کا ہے ۔ اس لئے آج ہم آپ کو کچھ ایسے خوراکوں کے بارے میں بتاتے ہیں جس کی وجہ سے عورت میں بانجھ پن ہوتا ہے ۔میل آن لائن کے مطابق امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ’جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکالوجی‘ میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ انسان کی خوراک اور افزائش نسل کی قوت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔

خواتین اورمرد دونوں کچھ ایسی غذائیں استعمال کرسکتے ہیں جو انہیںبانجھ پن سے محفوظ رکھتی ہیں اور حصول اولاد میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس ضمن میں سامن مچھلی کو سرفہرست غذا قرار دیا ہے۔ اس مچھلی میں اومیگاتھری، فیٹی ایسڈ اور دیگر غذائی اجزاءبکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام اجزاءتولیدی اعضاءکی جانب دوران خون کو تیز کرتے ہیں اور جنسی کمزوری کو دور کرنے کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ خصوصاً مردوں میں سپرم پیدا کر نے کے لئے اومیگاتھری کا جزو ڈی ایچ اے نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اس مچھلی میں پائے جانے والے غذائی اجزاءماں کے پیٹ میں موجود بچے کے اعضاءکی نشوونما اور خصوصاً دماغ کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سامن مچھلی دستیاب نہ ہو تو انڈے، دالیں اور خشک میوہ جات ضرور استعمال کرنے چاہئیں۔

مہنگی غذاﺅں کے برعکس پالک ایک ایسی غذا ہے جو سستی بھی ہے اور تولیدی صحت کے لئے ضروری اجزاءسے بھرپور بھی۔ اس میں بی وٹامن پایا جاتا ہے جو کہ جنسی خلیات کی افزائش میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فولک ایسڈ خلیات کی تقسیم، نئے خلیات بننے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈی این اے خلیات کی تخلیق نو میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ پالک میں پایا جانے والا آئرن اور کیلشیم بچے کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی افزائش او رمضبوطی کے لئے یہ اجزاءاہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں، مردوں کے ساتھ خواتین میں بھی جنسی تحریک پیدا کرتی ہیں جس سے ان کی ازدواجی زندگی بھرپور اور خوشگوار ہوجاتی ہے۔

ایک اور اہم غذا ’مکمل اناج‘ ہے۔ مکمل اناج سے مراد کسی بھی اناج کے تمام اجزاءکو استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر گندم کو استعمال کیا جائے تو اسے چھان کر بھوسی علیحدہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ گندم کے دانے کے اندرونی اجزاءکے ساتھ اس کا چھلکا بھی آپ کی غذا کا حصہ بنے۔ اسی طرح دیگر اناج کو بھی مکمل یعنی چھلکے سمیت استعمال کریں تو اس کے اصل فوائد حاصل ہوتے ہیں، چاہے اسے پیس کر آٹے کی شکل میں استعمال کیا جائے یا کسی دیگر صورت میں۔ مکمل اناج میں وٹامن بی، بی نائن یعنی فولک ایسڈ اور بی 12 پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام اجزاءحمل کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی 12 جیسے وٹامن کی کمی خواتین کے لئے حاملہ ہونا مشکل بناسکتی ہے۔ مکمل اناج سے ملنے والا فائبر ناصرف بلڈشوگر کو متوازن رکھتا ہے بلکہ خواتین میں ایسٹروجن ہارمون کی افزائش بھی کرتا ہے جو ان کی تولیدی صحت کا بنیادی جزو ہے۔ اس کے علاوہ مٹر اور دیگر پھلیاں، گہرے رنگ کی چاکلیٹ بھی تولیدی صحت

کے لئے مفید پائی گئی ہے۔اس کےعلاوہ کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو مردوں کو نقصان پہنچاتی ہے جیسے ترش سبزیاں ۔ تلی ہوئی اور مرغن غذائیں اس لئے مردوں کو بانجھ پن سے بچنے کے لئےان غذاؤں کے استعمال میں کمی رکھنی چاہئے تاکہ انہیں اس بیماری کا سامنا نہ کرنا پڑے

Comments

comments

بانجھ پن کی وجہ سامنے آگئی ۔ سائنسی تحقیق نے سب کچھ سامنےلا دیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top