Urdu

بچوں کے لئے کھانا لے کر جانا ملازم کے لئے مہنگا پڑ گیا ۔ ملازم نے تشدد سہنے کے بعد خود کو آگ لگا دی

ہمارا پاکستان کئی باتوں کی وجہ سے انفرادی ہے یہاں 100 روپے چوری کرنے والوں کو لوگ آگ لگا دیتے ہیں لیکن کھربوں لوٹنے والے کو اپنا قائد مانتے ہیں ۔ یہاں بچے ہوئے چاول کھانے اور لے کر جانے پر موت ملتی ہے جب کہ کھربوں روپے غائب کرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔عموما ہوٹلوں میں گاہگ سے بچا ہوا کھانا یا تو پھینک دیا جاتا ہے یا پھر سے سالن میں ملا دیا جاتا ہے لیکن گزشتہ روز پاکستان میں ایسا ہوا کہ ایک ہوٹل کے ملازم نے بچا ہوا کھانا اپنے گھر لے گیا جس کی وجہ سے اسے مالک نے مارا پیٹا اور اس کے بعد اس نے خود سوزی کر لی


رپورٹ کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے چاول چرانے کے مبینہ الزام پر ملازم 32 سالہ بلال کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، ملازم کو تشویشناک حالت میں لاہور ریفر کر دیا گیا ہے، ہوٹل انتظامیہ نے چاول چرانے کے جرم میں تشدد کے بعد بتیس سالہ بلال پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، سیالکوٹ میں واقعاس ہوٹل کے مالک نے جلاد کا روپ دھار لیا اور ملازم پر تشدد کے بعد اسے آگ

لگادی، جسے تشویشناک حالت میں لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، بتیس سالہ بلال کی والدہ نے کہا کہ ہوٹل کے مالک کے داماد نے اس کے بیٹے پر چاول چرانے کا الزام لگایا اور اس کے بعد بلال کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، جب کہ ہوٹل انتظامیہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بلال نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

Comments

comments

بچوں کے لئے کھانا لے کر جانا ملازم کے لئے مہنگا پڑ گیا ۔ ملازم نے تشدد سہنے کے بعد خود کو آگ لگا دی
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top