Urdu

بیوی کے آگے شہزادوں کی بھی نہیں چلتی ، شہزادہ ہیری کی منگیتر نے اس سے ایسے کام کروانے شروع کردئیے جس سے تمام شوہر پہلے ہی تنگ ہیں

بیوی کے آگے شہزادوں کی بھی نہیں چلتی ، شہزادہ ہیری کی منگیتر نے اس سے ایسے کام کروانے شروع کردئیے جس سے تمام شوہر پہلے ہی تنگ ہیں

فقیر ہو یا بادشاہ، بیوی کے سامنے سب کی حیثیت ایک جیسی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی شہزادے ہیری کو دیکھ لیجئے۔ یہ صاحب کل تک ایسے کھلنڈرے اور من موجی تھے کہ خود کو ہر اصول ضابطے سے آزاد خیال کرتے تھے لیکن ان کی منگیتر میگن مارکل نے بیوی بننے سے پہلے ہی انہیں بھیگی بلی بنا دیا ہے۔ برطانوی میڈیا بتاتا ہے کہ میگن سے ملاقات سے قبل پرنس ہیری کا طرز زندگی کسی بھی لااُبالی کنوارے لڑکے جیسا تھا۔

انہیں کئی بار ’بائرن برگر‘ کی کنگسٹن پیلس کے قریب واقع برانچ میں دیکھا گیا جہاں وہ برگر اور چپس کھاتے تھے۔ اسی طرح وہ اکثر ’پزیریا بونگابونگا‘ سے پیزا کھاتے اور نوٹنگ ہل کے ’رم کچن‘ میں بھنے ہوئے گوشت کے مزے لیتے دکھائی دیتے تھے۔ فوج میں ان کے سابق ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ کے ایف سی اور میکڈونلڈز کے بھی بڑے شوقین تھے، مگر اب وہ ایسے بدلے ہیں کہ ان کے دوست بھی ان کا مذاق اڑانے لگے ہیں۔

یہ ساری تبدیلی میگن مارکل کی آمد کے بعد ہی آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اب پرنس ہیری فاسٹ فوڈ سے توبہ کرچکے ہیں اور صرف گھر کے بنے ہوئے کھانے کھاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے وزن میں بھی گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تقریباً 3کلو کی کمی آچکی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق میگن مارکل سبزی خور ہیں اور ہر قسم کے گوشت سے مکمل پرہیز کرتی ہیں۔ وہ پرنس ہیری کو بھی گوشت سے دور کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوچکی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے پرنس ہیری پر یہ پابندی بھی عائد کردی ہے کہ اب وہ باہر سے مضر صحت کھانے نہیں کھائیں گے، خاص طور پر برگر، چپس اور پیزا جیسی خوراکوں پر مکمل پابندی ہے۔ اور تو اور، انہوں نے پرنس ہیری کی سگریٹ نوشی بھی بڑی حد تک کم کردی ہے۔شہزادے کے دوست ازراہ تفنن کہتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے شادی کے بعد شہزادے کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی لگ جائے گی۔

Comments

comments

بیوی کے آگے شہزادوں کی بھی نہیں چلتی ، شہزادہ ہیری کی منگیتر نے اس سے ایسے کام کروانے شروع کردئیے جس سے تمام شوہر پہلے ہی تنگ ہیں
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top