Urdu

تب حضرت نے راز کھولا

امام العلماء والصلحاء حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ کا تقویٰ بڑا معروف تھا۔ آپ سردیوں میں بھی اور گرمیوں میں بھی ہاتھ میں چھتری رکھتے تھے۔ گرمیوں میں تو چھتری ہاتھ میں رکھنا سمجھ میں آتا ہے، دھوپ سے بچتے ہوں گے،

لیکن سردیوں میں چھتری رکھناتو سمجھ میں نہیں آتا۔ چونکہ حضرت کی جماعت میں علماء کی کثرت تھی اس لیے ایک مرتبہ ایک عالم نے پوچھا لیا کہ حضرت! سردیوں میں چھتری ہاتھ میں رکھنے کی کیا حکمت ہے؟ جب انہوں نے اصرار کیا، تب حضرت نے راز کھولا۔فرمایا کہ عام لوگ تو سردی گرمی سےبچنے کے لیے رکھتے ہیں،

میری ایک اور بھی نیت ہوتی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کون سی؟ فرمایا کہ راستہ چلتے ہوئے جب دیکھتا ہوں کہ دائیں طرف سے غیر محرم آ رہی ہے تو میں اس طرف چھتری کرکے اپنا چہرہ چھپا لیتا ہوں اور جب بائیں طرف سے غیرمحرم آ رہی ہوتی ہے

تو چھتری سے بائیں طرف آڑ کر لیتا ہوں، میں غیر محرم کے کپڑے کو بھی نہیں دیکھتا تاکہ میرا اس کی طرف دھیان ہی نہ جائے، یہ ہے تقویٰ کہ غیر محرم کا چہرہ تو کیا دیکھنا، اس کے کپڑے کو بھی نہ دیکھا جائے۔

سکھ جن مسلمان عورت پر عاشق ہو گیا
فرما رکھا ہے کہ وہ انسانوں کو اذیت پہنچانے اور ان کے معاملات میں دخل اندازی کر کے ان کی گھریلو اور سماجی زندگی تباہ کرنے والے ابلیسی جنات کی پکڑ لیا کریں، مگر اس علم کی

بنا پر بہت سے جھوٹے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور اللہ والوں کی بد نامی کا باعث بن جاتے ہیں، میرے مرید محمد الیاس قادری نے ایسے بہت سے عاملوں کے بارے میں سن رکھا تھا

جو جنات وغیرہ جیسی شیطانی مخلوق کو پکڑنے اور آسیب زدہ انسانوں کی جان ہلکی کرانے کا دعویکرتے تھے مگر وہ اپنے علمی مشاہدے کی وجہ سے یقین نہیں کرتے تھے، محمد الیاس قادری ویسے بھی لبرل حلقے میں شمار ہوتے تھے جو منطق اور حقیقت پر یقین رکھتے

ہیں. ان کے حلقہ دوستان کا شمار کیمونسٹوں میں ہوتا تھا، چند واقعات ایسے رونما ہوئے کہ انہیں اپنے نطریات تبدیل کرنے پڑ گئے.

ہو ایوں کہ ایک دن میں انکے گھر گیا تو موضوع ایسا چھڑ گیا جس میں محمد الیاس قادری بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہے تھے، وہ جنات کے وجود کو نہ مانتے نہ ہی کرامات کے قائل تھے، اسی اثنا میں انہیں خبر ملی کہ ہمسایہ میں ایک عورت بہت بیمار ہے اور گھر والے اس کی

تیمار داری کرنے جا رہے ہیں، اس عورت کی بیماری لا علاج تصور کی جاتی تھی اور ڈاکٹروں ، حکیموں نے جواب دے دیا تھا کہ اس کو کوئی مرض نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ

بستر سے لگی ہوئی تھی اور زندگی بڑی تیزی سے ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہی تھی، میں نے الیاس قادری سے کہا کہ انہیں بھی خاتون کی تیماری داری کرنی چاہیے کہ اس طرح

حسن سلوک بڑھتا اور ثواب ملتا ہے، محمد الیاس قادری نے ترت جواب دیا آپ کیوں نہیں جاتے خیر میں انکے ساتھ پیر صاحب کی خواہش پر ہمسایہ کے گھر لے گیا. میں نے جب خاتون پر توجہ فرمائی تو القا ہوا کہ اسے تو سایہ ہے جسمانی نہیں روحانی بیماری ہے، یہ سن

کر گھر والے حیران ہوئے تو کہا پیر صاحب اگر اسے سایہ ہے تو اس کا علاج بھی آپ ہی

کریں، میں نے خاتون کے بستر کا حصار کیا، اس وقت وہ بے ہوش تھی اور اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی، میں نے پڑھائی شروع ی تو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ مریل اور بیمار سے عورت یکدم اتھی اور تیزی سے مجھ پر جھپٹی اور ان کی آنکھیں نوچنے کی کوشش کی، سب

لوگ اچانک گھبرا گئے، میں نے کہا ہاں بھئی کون ہے تو، میں عاشق سنگھ ہوں، اس کا عاشق ہوں، تم چلے جاؤ ورنہ میں اس کو بھی مار دوں گا اور تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا، عورت

کے لہجے میں ایک مرد انتہائی غصہ سے بول رہا تھا. تمام لوگ دم سادھے بیٹھے تھے، تو چاہتا کیا ہے ؟ میں نے سوال کیا، میں اس کو مارنا چاہتا ہوں، پچھلے 35سال سے اس پر قابض ہوں، اس کی مور ت اور موت سے ہی مجھے شانتی ملے گی، عاشق سنگھ بولا، اگر تو

جان لے کر ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو میری لے لو، میں نے کہا تو وہ پھر مجھ پر جھپٹا، میں نے اس سے پوچھا ہم کیسے یقین کریں تو واقعی سکھ ہے، اگر سکھ ہے تو تجھے اپنے گرو کا

واسطہ ہے چلا جا کیونکہ تیرے گرو ہمارے بزرگوں کی بڑی عزت کرتے تھے. عاشق سنگھ نے اس موقع پر اپنا کلمہ بھی پڑھ کر سنایا جو عجیب سا تھا، خیر وہ تگ و دو کے بعد مان گیا

اور اس عورت کی جان چھوڑنے کے بعد بھارت چلے جانے پر رضا مند ہو گیا، اس واقعہ نے الیاس قادری کی آنکھیں کھول دیں. اگر وہ اپنی آنکھوں سے یہ نطارہ نہ دیکھتا تو یقیناًً اس حقیقت کو وہم اور جہالت گر دانتا، اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ کو آزمانے کی کوشش کی.

انسان ایک دم اپنے نطریات سے تائب نہیں ہوتا، ہوا یوں کہ جب بھی میں قصور کے پاس اپنے گاؤں جاتا تو الیاس قادری بھی میرے ساتھ ہو لیتا، خاص طور پر جہاں جنات کا بسیرا ہوتا یا کسی کا علاج کرنا ہوتا تھا، وہ میرا بغور جائزہ لیتا اور حجتیں کرتا، بال کی کھال اتارتا قریب

ہی ایک گاؤں ہے ویر کے ، وہاں ایک گھر میں آگ لگ جایا کرتی تھی، جس کی وجہ سے گھر کا سامان بھی جل جاتا اور مکین بھی خوفزدہ رہتے تھے. گاؤں والے بھی اس گھر والوں کے پاس جانے سے کترارتے تھے، ان کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی کیونکہ اس بات کی کوئی

ضمانت نہیں تھی کہ گھر میں کس وقت آگ لگ جائے، لوگ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا پاتے تھے، مشہور ہو چکاتھا کہ یہاں

جنات کا پورا کنواں بیٹھا تھا، کنواں عملیات میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنات جیسی مخلوق آباد ہوتی ہے، ویر کے گاؤں کے اس گھر میں کئی کنویں تھے اور بہت زیادہ جنات آباد تھے، انہیں وہاں سے نکالنے کی ہمت کوئی بھی نہیں کرتا تھا، سب کہتے تھے کہ کوئی تگڑا

پیر یا عامل ہی ان کو وہاں سے نکال کر انسانوں کو انکے شر سے بچا سکتا ہے، یہ بہت برا متحان تھا اور الیاس قادری نے مجھے اس امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا. ایک وقت میں ایک جن کا اتار ا کرنا آسان نہیں ہوتا، عامل کو جان سے گزر کر اس انجانی اور شریر مخلوق

سے لڑنا پڑتا ہے اگر اس پر وہ قابو پا لے تو پھر شرائط بھی منوا لیتا ہے، ویر کے میں تو پورا کنوں بیٹھا ہوا تھا اور انہیں آگ لگانے کی قوت و تسخیر بھی حاصل تھی، یہ سارے ہندوا اور

سکھ جنات تھے. میں وہاں گیا اور بڑے اطمینان سے پورے کنویں کو قابو کیا اور انکے سردار کو بلا کر اسکے سامنے یہ شرط رکھ دی کہ وہ مسلمان انسانوں کو تنگ کر کے فساد پھیلا رہے ہیں جس سے انسانی بستیوں میں ہلاکتوں اور خوف کا اندیشہ ہے اس لیے وہ شرافت

سے چلے جائیں تو بہتر ہے، پہلے تو انہوں نے آگ سے مجھے ڈرانا چاہا لیکن اللہ کا کلام شیطان کے پیرو کاروں کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے، ان جنات کو بھی گاؤں چھوڑ کر انڈیا جانے پر مجبور ہونا پڑا.

Comments

comments

تب حضرت نے راز کھولا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top