Urdu

حضرت عبدالقادر جیلانی کا ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ

ایک بکروال اپنی بکریاں چرا رھا تھا ، اس دوران وہ درخت کے نیچے بیٹھا اللہ پاک سے مخاطب تھا ،، اللہ پاک سنا ھے تیری بیوی بھی نہیں ، تیرے بچے بھی نہیں ، بھلا تیرا خیال کون رکھتا ھو گا ؟یا اللہ اگر تو میرے پاس ھوتا تو میں تجھے اپنی بھیڑوں کا دودھ پلاتا ، تیرے بالوں کو تیل لگاتا ان کو سنوارتا، وغیرہ وغیرہ ، پاس سے گزرتے ھوئے موسی علیہ السلام نے جو یہ سب کچھ سنا تو پکار اٹھے تُو تو مرتد ھو گیا ، یہ سننا تھا کہ چرواہا چیخ مار کر جنگل کی طرف بھاگ نکلا کہ میں تو رب العزت کو خوش کرنے مکمل پڑھنے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

موسی تو نے میرے بندے کو مجھ سے دور کر دیا ، تمہیں معلوم نہیں کہ ھم اس کی ان سادی سادی باتوں سے کتنے خوش ھو رھے تھے ، اے موسی ھم نے تمہیں بندے رب سے جوڑنے کے لئے بھیجا تھا توڑنے کے لئے نہیں بھیجا تھا،،وحي آمد سوي موسي از خدا بنده ما را ز ما کردي جداتو براي وصل کردن آمدي نہ براي فصل کردن آمدي ،،اے موسی ھم تو بندے کو بندے سے جدا کرنے والیطلاق کو بھی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند کرتے ھیں پھر اللہ سے جدا کرنے والے کلمات کو کیسے پسند کریں گے؟ھندی ھند کی زبان میں میری مدح کرتے اور سندھی سندھ کی زبان میں میری تعریف کرتے ھیں ، جس طرح ھر قوم کی اپنی اپنی اصطلاحات ھیں اسی طرح ھر فرد اپنی اپنی عقل سے ھماری مدح کرتا ھے ،،ھر شخص کو میں نے اس کی طبیعت کے مطابق عقل دی ھے،جس کے تحت وہ اپنی اصطلاح میں ھماری مدح کرتا ھے ، اس چرواھے کی باتیں میرے نزدیک میری مدح تھیں جبکہ تمہارے نزدیک میری توھین تھیں ،،میرے نزدیک وہ شھد سے زیادہ میٹھی اور تیرے نزدیک وہ زھر سے کڑوی تھیں ،میں پاکی و ناپاکی سب سے پاک ھوں ( کوئی ناپاکی بیان کرنے والا بھی ھم میں ناپاکی ثابت نہیں کر سکتا اور کوئی پاکی بیان کرنے والا بھی ھماری پاکی کا حق ادا نہیں کر سکتا)

اصلاح ملت اسلامیہ کیوں اور کیسے ؟محبوب سبحانی۔ قطب ربانی، قندیل نورانی، غوثِ صمدانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والوں کا ذکر کیا ہے اور انکی تعریف اس طرح فرمائی ہے :’’تم لوگوں کی ہدایت کے لئے بہترین گروہ بنا کر بھیجے گئے ہو۔بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ایک اور آیت میں اس طرح فرمایا گیا :’’مومن مرد اورمومن عورتیں باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔‘‘ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم قطعاً بھلائی کا حکم دو اور بری باتوں کی ممانعت کرو ،ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہارے نیکوں پر تمہارے بروں کو ضرور مسلط کر دیگا ۔پھر نیک لوگ دعا کرینگے مگر انکی دعا قبول نہ ہوگی ۔حضرت سالم رضی اﷲ عنہ بن عبد اﷲ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا!’’اچھی باتوں کا حکم دو اور بری باتوں سے رو کو قبل ازیں کہ تمہارے نیک لوگوں کی دعائیں قبول نہ ہوں اور تم استغفار کرو مگر تمہیں معاف نہ کیا جائے ۔خوب سمجھ لو کہ اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا رزق کو دور کر دیتا ہے نہ عمر کی مدت کو کم کرتا ہے ۔خوب سن لو! کہ یہودی علماء اور عیسائی عابدوں نے نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا جب ترک کر دیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کے پیغمبروں کی زبان سے ان پرلعنت بھیجی اور سب کو مصیبت میں ڈال دیا۔

Comments

comments

حضرت عبدالقادر جیلانی کا ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top