Urdu

دوراں حمل ایسی خوراک جس سے بعد از حمل ہونے والی کمزوری ، متلی کا خاتمہ ہوگا

ہر عورت کی خواہش ہوتی کہ وہ ماں بن ے اور ایک صحت مند بچے کو جنم دیں اور اس کے ساتھ اس کی اپنی صحت بھی بہتر تا کہ بچے کی ہرورش اور گھر کے کام کاج میں اسے کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو ۔ لیکن حمل کا دورانیہ 9 مان پر ہوتا ہے اور عورت کو اپنی صحت کے ساتھ بچے کی صحت کا بھی خیال رہتا ہے ۔ اکثر اس دوران عورت کو کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اکثر عورتوں کو متلی اور قے کی شکایت ہوتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ سینے کی جلن الگ سے ہوتی ہے ۔ پرانے زمانوں میں ان سب تکالیف کے لئے گھر میں ہی مختلف دیسی چیزوں کو ملا کر خوراک بنائی جاتی تھی جس سے ہر طرح کی تکالیف ختم ہوجاتی اور اس کے ساتھ بچے بھی صحت مند ہوتے تھے اور مان بھی اچھی بھلی ہوتی ۔ ۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف برمنگھم کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”وٹامن ڈی کی گولیاں اور فولک ایسڈ کی حامل خوراک ماں کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کی نشوونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔وٹامن ڈی اور فولک ایسڈ لینے پر رحمِ مادرکے مدافعتی خلیے انتہائی متحرک ہو جاتے ہیں اور بچے کے اعضاءکی تخلیق انتہائی صحت مندانہ طریقے سے ہوتی ہے“تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ہیویسن کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں پہلی بار یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رحمِ مادر کا حصہ پلیسنٹا (Placenta)ماں کے جسم میں موجود وٹامن ڈی کی مقدار کے تناسب سے مختلف کام کرتا ہے اور یہی حصہ بچے کے اعضاءبننے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ماں کے خون میں جتنا وٹامن ڈی زیادہ ہو یہ حصہ اتنا زیادہ متحرک ہوتا ہےچنانچہ ماﺅں کو صحت مند بچے کے حصول کے لیے دوران حمل وٹامن ڈی کی اضافی مقدار لیتے رہنا چاہیے۔ وٹامن ڈی براہ راست بچے کے ان خلیوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو ماں کے خون کی وریدوں سے جڑے ہوتے ہیں۔یہ بچے کو Chlamydiaو دیگر نوع کی انفیکشن سے بھی محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔“

Comments

comments

دوراں حمل ایسی خوراک جس سے بعد از حمل ہونے والی کمزوری ، متلی کا خاتمہ ہوگا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top