Urdu

راؤ انوار آغاز سے انجام تک

آج کی اس پوسٹ میں ہم کالی کرتوتیں شئیر کریں گیں اس بھیڑیے کی جسکو دنیا راؤ انوار کے نام سے جانتی ہے. یہ بندہ کب اور کیسے بھرتی ہوا، اسکو کس سیاسی جماعت کی سپورٹ حاصل رہی، اور یہ چار دفعہ عدالتوں کے معطل کرنے کے باوجود معصوم شہریوں کو قتل کیسے کرتا رہا؟ تمام تر ڈھکی چھپی باتیں اس پوسٹ میں پڑھیں.

ایک جوان، خوبصورت نوجوان کی گولیوں سے چلنی نعش نے ملک کے مختلف حصوں میں موجود عوام میں بے چینی پیدا کر دی. نقیب الله محسود کے قتل ہونے کے بعد سماجی ویب سائٹ پر غیر معمولی رد عمل دیکھا گیا، اور یہ آواز شدت کیساتھ اٹھائی گئی کہ کب تک معصوم بے گناہ شہریوں کو پولیس کے ہاتھوں قتل کیا جائیگا؟ اس ایک نقطے پر سوشل میڈیا پر آواز اٹھنی شروع ہوئی جو اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ مین اسٹریم میڈیا بھی اس آواز میں اپنی آواز ملانے پر مجبور ہو گیا جسکے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئی اور ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا گیا.

جب حکومت کو ہوش آیا تو انکوئری کمیٹیاں بنائی گئیں اور انکوئری کمیٹی کی پہلی رپورٹ میں نقیب الله محسود کے متعلق راؤ انوار کے دعووں کی صداقت پر سوال اٹھا دیے. جعلی مقابلوں میں پہلی بار راؤ انوار کا نام سامنے نہیں آیا، ایسے پولیس مقابلوں کی ایک تاویل تاریخ ہے، راؤ انوار کی پولیس میں ملازمت کا جائزہ لیا جاۓ تو وہ 1981 میں ایس پی ہاربر کے پاس بطور کلرک بھرتی ہوا تھا، وہی ایس پی ہاربر جسے ایس پی کماڑی بھی کہا جاتا تھا. جبکہ 1982 میں راؤ انوار کی اے ایس آئی تعیناتی ہو چکی تھی.

ساتھ اہلکار بتاتے ہیں کہ راؤ انوار ترقی کا خواہشمند تھا. وہ اپنے راستے میں جائز اور نا جائز کو نہیں دیکھتا تھا، وہ مختلف تھانوں میں ڈیوٹی سر انجام دیتا رہا اور مختلف محکموں میں اپنے تبادلے بھی کرواتا رہا. اس طرح آہستہ آہستہ اس نے اہم شخصیات کیساتھ رابطے قائم کر لیے جن میں معروف گلوکار نور جہاں بھی شامل ہیں. نور جہاں نے راؤ انوار کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، اپنی اس عادت کے سبب راو انوار نے غیر معمولی طور پر جلد ہی ترقی حاصل کی اور اے ایس آئی سب انسپیکٹر بناۓ جانے کیساتھ ہی اسے ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد تعینات کر دیا گیا.

راؤ انوار کے ساتھی افسران کے مطابق اس عرصے کے دوران (People Student Federation) سے تعلق رکھنے والے کچھ لڑکوں کی گرفتاری ہوئی، پپلز پارٹی کے دور حکومت میں ان لڑکوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی گئی. راؤ انوار اور حکومت میں معاملات چلتے رہے جسکے بعد راؤ انوار سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے منظور نظر ہو گئے. اسکے بعد تو جیسے راؤ انوار کے کیرئیر کو پر ہی لگ گئے. یہی وہ دور تھا جب حکومت میں شامل اہم شخصیات کیساتھ راؤ انوار کے رابطے قائم هوئے جسکے بعد اسنے ترقی کا سفر تیزی سے طے کیا.

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے فاروق دادا اور بانی متحدہ قومی موومنٹ کے بھتیجوں کے مقابلے میں مارے جانے کا الزام بھی راؤ انوار کے سر ہی آتا رہا. سینئیر افسران کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکنوں پر تشدد پر بطور چیرا لگانا ایک بھیانک طریقہ مانا جاتا ہے، جسکے موجد بھی یہی سمجھے جاتے ہیں. اس مقابلے کے بعد راؤ انوار کو ترقی ملتی رہی اور بدستور اچھے عہدوں تک جاپہنچا.

ایم کیو ایم ہو یا ملک کی کوئی اور جماعت، ملزم کو مجرم عدالت کرار دے گی اور اسکو سزا بھی عدالت کو ہی دینی چاہیے. مارواۓ عدالت قتل ایسا ہی ہے جیسے طالبان عدالت سے باہر معصوم عوام کو قتل کرتے ہیں. ایسے ہی پولیس گردی بھی دہشتگردی ہے جو عدالت کے باہر چاہے مجرم بھی ہو اسکو سزاء بھی دی جائے تو.

جب ایم کیو ایم اقتدار میں آئی تو کراچی آپریشن میں شامل افسران کے قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا. کافی زیادہ افسران مارے گئے اور اس آپریشن میں صرف دو افسران بچے جس میں راؤ انوار اور سرور کمانڈو تھا. راؤ انوار کے ارباب اختیار سے مضبوط روابط کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مبینہ مقابلوں سے ترقیاں پانے کے باوجود سندھ پولیس کا یہ افسر ملک بھر میں تعیناتیاں حاصل کرتا رہا.

متلان ہو یا سیٹلائٹ ٹاون کوئٹہ، راؤ انوار ہمیشہ کرسی پر بیٹھا دکھائی دیتا تھا. ایم کیو ایم کے دور حکومت میں راؤ انوار کو جان بچانے کے لیے کراچی چھوڑنا پڑا اور اسلام آباد میں پناہ حاصل کی. اسلام آباد میں طویل عرصہ رہنے کے بعد محترمہ بے نظیر کے قتل کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو راؤ انوار کو دوبارہ کراچی میں لایا گیا اور بطور ڈی ایس پی تعینات کیا گیا. ملیر میں تعیناتی کے حوالے سے بھی سندھ پولیس کے اندرونی حلقوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ انکی تعیناتی سندھ کے ایک مقتدر ترین فرد سے قربت کا نتیجہ تھی.

ملیر ہے ہٹنا پڑا تو جیکسن تعیناتی کروائی مگر کچھ عرصے بعد پھر واپس ملیر آگیا. گزشتہ دس سال سے ملیر تعیناتی کے دوران متعدد بار راؤ انوار پر جعلی مقابلوں، زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری، ریتی بجری کی چوری جیسے سنگین الزامات لگائے گئے. راؤ انوار کو چار مرتبہ اسکے عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے، جس میں دو مرتبہ سندھ کورٹ کے حکم پر اور دو مرتبہ سپریم کورٹ کے حکم بھی شامل ہیں. مگر چند دن بعد راؤ انوار دوبارہ تعیناتی حاصل کر کے اپنے عہدے پر موجود ہوتا تھا.

ناظرین اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے آپ دیکھیں ملک کی اعلیٰ عدالتیں بھی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں. راؤ انوار کا نام اس وقت زیادہ منظر عام پر آیا جب مبینہ مقابلوں میں مارے جانے والے نوجوانوں کے اہل خانہ انکو جعلی قرار دے کر عدالت سے رجوع کرنا شروع کر دیتے.

فروری 2011 میں نوجوان انیس سومرو کے قتل کے الزام میں عدالت نے راؤ انوار کو انکے عہدے سے ہٹا دیا اور عدالتی تحقیقات کا حکم دیا. انیس سومرو کے والد اپنے بیٹے کا مقدمہ لڑتے رہے اور عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار اور اسکے ساتھ کیس واپس لینے کے لیے دھمکیاں دیتے رہتے ہیں. اسی دوران 16 اپریل کو ایک پٹیشن پر عدالت نے ایکشن لیا جس میں زاہد علی عابد نے درخواست جمع کروائی تھی. اسکے مطابق انکے بیٹے کو راؤ انوار نے اغواء کر کے 5 لاکھ روپے طلب کیے اور ادا نہ کرنے پر بیٹے کو قتل کر دیا. معاملہ صرف یہیں ختم نہیں تھا، سندھ حکومت نے 2015 میں مبینہ مقابلوں میں مارے مارے جانے والے مشتبہ افراد میں سے 50 کی تحقیقات کا حکم دے دیا، جبکہ ملیر میں زمینوں قبضوں اور لوگوں کو دھمکیاں دے کر جائیدادیں ہڑپ کرنے کے حوالے سے بھی کیس کی سماعت کی. ایس ایس پی راؤ انوار اپنے ہی محکمے کے پولیس افسرانوں کو بھی اغوا کرنے کے ماہر تھے اور یہ درندہ ان الزامات کی زد میں بھی رہا.

انسدادے تجاوزات کے حوالے سے سرکاری زمینوں سے تجاوزات ختم کرانے پر سب انسپیکٹر محراب کھوسو غائب هوئے تو انکے والد ریٹائر پولیس افسر نیاز کھوسو نے راؤ انوار پر الزام لگایا کہ اسنے انکے بچے کو اغوا کیا ہے جسکی رپورٹ آج تک درج نہیں کی گئی.

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام تر الزامات کے باوجود راؤ انوار کو کبھی کچھ نہ کہا گیا جبکہ متاثرین اور عوام سمیت عدلیہ بھی صرف دیکھتی ہی رہی. اس سے پہلے راؤ انوار کی جب تھوڑی دیر کے لیے معطلی ہوتی تو راؤ انور ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اسکی معطلی سے منفی اثرات مرتب ہوں گے جسکے بعد اسے اعلیٰ شخصیات کی مدد سے دوبارہ تعینات کر دیا جاتا تھا.

اپنے افسران کو بھی راؤ انور سخت الفاظ میں دھکمیاں دیتا رہا ہے، یہاں تک کہ حالیہ واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ثناء الله عباسی پر بھی اسنے اعتراض اٹھا دیا ہے اور پولیس افسران سے اسکو بدلنے کا بھی کہہ دیا ہے.

راؤ انوار کا کیرئیر اختمام کے قریب ہے، ریٹائرمنٹ میں چند ماہ باقی ہیں مگر حالیہ مقابلے پر سوالات اٹھانے کے بعد لگتا ہے کہ اب راؤ انوار بری طرح پھنس چکے ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ مشہور شخصیات کے خصوصی قربت کے دعویدار راؤ انوار کیا اس بار بھی بچ سکتا ہے یا پھر اس دفعہ عوامی رد عمل سامنے آنے کے سلسلے میں اس جانور اور خونی بھیڑیے کو قتلوں کی سزا دی جائیگی؟

Comments

comments

راؤ انوار آغاز سے انجام تک
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top