Urdu

رزق کیلئے سورہ فاتحہ کا یہ عمل کریں

رزق کیلئے سورہ فاتحہ کا یہ عمل کریں ہم آج آپ کو ایک ایسا پاور فل وظیفہ بتانے جا رہے ہیںاگر آپ مالی طور پر بہت زیادہ تنگ دستی کا سامنا کررہے ہیںیا آپ بے روز گار ہیں آپ نے کافی جگہ جاب کیلئے اپلائی کیا اور آپ کو جاب نہیں مل رہی یا آپ قرضے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔آئے دن کوئی نہ کوئی آپ کو مالی پریشانی کا سامنا رہتا ہے تو آپ صرف سات راتیں یہ عمل کرنا ہے

انشاءاللہ یہ عمل کرنے سے آپکو رزق کی جو بھی تنگ دستی ہے ۔آپ نے یہ عمل اس جگہ یعنی کہ اس کمرے میں کرنا ہے جہاں کوئی نہ ہوصرف آپ اکیلے ہی وہاں پر ہوں۔اگر سات راتوں میں سے آپ کی کوئی رات مِس ہوگا ئے تو آپ اس کو کسی اور بھی مکمل کر سکتے ہو۔آپ نے یہ عمل جمعرات کے دن سے شروع کرنا ہے اور سات راتیں یعنی کے بدھ تک یہ عمل کرنا ہے

۔آپ نے یہ عمل کسی بھی نماز کے بعد کرنا اور کوئی ایسا ٹائم رکھنا ہے کے ساتوں دن آپ اس ٹائم ہی یہ عمل کرسکیں۔تو آپ نے نماز پر ہی بیٹھ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے جو بھی پریشانی ہے اس کو ذہن میں رکھ کے یہ عمل کرنا ہے۔کوشش کریں کہ یہ عمل رات کو کریں کیونکہ رات کو یہ عمل کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہوتی ہے

۔آپ نے سب سے پہلے اول و آخر درود ابراہیمی گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے۔اس کے بعد آ پ نے نوے مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔سورة فاتحہ کو پڑھنے سے پہلے ہر مرتبہ آپ نے پہلے بسم اللہ پڑھنی ہے۔اور پھر اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کریں۔دوسرے دن آپ نے پھر اول و آخر دس دس مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اور درمیان میں اسی مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔اور پھر تیسرے دن آپ نے نو نو مرتبہ اول و آخر درود ابراہیمی کو پڑھنا ہے اور درمیان میں ستر مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔

چوتھے دن آپ نے آٹھ آٹھ مرتبہ اول و آخر درود ابراہیمی اور درمیان میں ساٹھ مرتبہ آپ نے سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔اور پانچوے دن آپ نے اول و آخر سات سات مرتبہ درود ابراہیمی اور درمیان میں پچاس مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔اور

آپ نے اسی طرح باقی دونوں سن بھی اسی طرح ایک بار درور اور دس مرتبہ سورة فاتح کم کرکے پڑھنی ہے۔اور آخر اللہ کے حضور رو کر دعا مانگنی ہے انشا ءاللہ آپ کی مشکل آسان ہوجائے گی ۔صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر ضرور کریں۔۔۔

یوں تو دنیا میں بہت سے اہم رشتے ہوتے ہیں لیکن دوست جیسے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں، دوستی کا رشتہ ہر انسان استوار کرتا ہے۔ ضروری نہیں دوستی ہم عمر لوگوں سے کی جائے، جیسے دوستی کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی اُسی طرح دوستی کے لئے رشتوں کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی۔

بچپن سے بڑھاپے تک عمر کی ہر منزل پر ہم بہت سے دوست بناتے ہیں، لیکن جو سب سے قریبی رشتے ہوتے ہیں انہیں ہم نہ جانے کیوں نظر انداز کرجاتے ہیں، اور ایسا سوچتے ہیں کہ ان رشتوں میں دوستی کی گنجائش نہیں، جو رشتہ ہے بس وہی کافی ہے یا پھر یہ سوچ ہم پر حاوی ہوجاتی ہے کہ یہ احترام کے رشتے ہیں اور دوستوں والی بے تکلفی والا احساس اس رشتہ میں پیدا نہیں ہوسکتا۔

حالانکہ ایک بچہ بچپن میں سب سے پہلے اپنے والدین کو ہی اپنا دوست سمجھتا ہے کیونکہ وہی اُس کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اسکول کی ہر چھوٹی سے چھوٹی، ہر اچھی بُری بات، اپنے دن بھر کی روداد والدین سے جب تک بیان نہیں کرلیتا تب تک بے چین رہتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے عمر کی منزلیں طے کرتا جاتا ہے اس کا حلقہ احباب بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس دوران اکثر والدین بھی دوسری مصروفیات میں اس دوستی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور بہت سے والدین کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وقت پر اولاد کی فیس ادا کردینے اور اُن کی ضروریات پوری کر دینے سے اُن کے تمام فرائض کی ادائیگی ہوجائے گی۔

تو دوسرا فرشۃ اس کے پاس آتا ہے او راسے پکار کر کہتا ہے :”اے ابن آدم !تُو نے تنگدستی کے خوف سے جو مال واسباب جمع کیا تھا وہ کہاں گیا ؟ تُونے تباہی سے بچنے کے لئے گھر بسائے تھے وہ کہاں گئے؟ تُو نے تنہائی سے بچنے کے لیے جو اُنس تیار کیا تھا وہ کہاں گیا؟” پھر جب اس کا جنازہ اٹھایا جاتاہے تو تیسرا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکا ر کر کہتا ہے:” آج تُو ایک ایسے لمبے سفر کی طرف رواں دواں ہے جس سے لمبا سفر تُو نے آج سے پہلے کبھی طے نہیں کیا ، آج تُو ایسی قوم سے ملے گا کہ آج سے پہلے کبھی اس سے نہیں ملا ،آج تجھے ایسے تنگ مکان میں داخل کیاجائے گا کہ آج سے پہلے کبھی ایسی تنگ جگہ میں داخل نہ ہوا تھا،

اگرتُو اللہ عزوجل کی رضا پانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ تیری خوش بختی ہے او راگر اللہ عزوجل تجھ سے ناراض ہوا تویہ تیری بدبختی ہے .” پھر جب اسے لحد میں اتار دیا جاتاہے تو چوتھا فر شتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے:” اے ابن آدم ! کل تک تُو زمین کی پیٹھ پرچلتا تھااور آج تُواس کے اندر لیٹا ہوا ہے ،کل تک تُو اس کی پیٹھ پرہنستا تھا او رآج تُو اس کے اندر رورہاہے، کل تک تُو اس کی پیٹھ پرگناہ کرتاتھا اور آج تُواس کے اندر نادم وشرمندہ ہے . ”پھر جب اس کی قبرپر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اہل وعیال دوست واحباب اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو

پانچو اں فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کرکہتاہے:” اے ابن آدم ! وہ لوگ تجھے دفن کر کے چلے گئے ،اگر وہ تیرے پاس ٹھہربھی جاتے تو تجھے کوئی فائد ہ نہ پہنچا سکتے ،تُونے مال جمع کیا او راسے غیرو ں کے لئے چھوڑدیا آج یا تو تجھے جنت کے عالی باغات کی طرف پھیرا جائے گا یا بھڑ کنے والی آگ میں داخل کیا جائے گا.

یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے ایک مانوس سی آواز نے اسے روک لیا، وہ اس کی کلاس فیلو جنت تھی۔ تمھارا گھر کہاں ہے؟ اس نے پوچھا اور ساتھ ہی لفٹ کی آفر کر دی۔ علی نے ایک لمحے اسے دیکھا اور بولا، نہیں نہیں شکریہ؛ میں چلا جاؤں گا۔ وین میں بیٹھ کر وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے گھر کے بارے میں پوچھنا اس کےلیے چبھتا ہوا سوال کیوں ھے؟ جواب صا ف ظاہر تھا، اس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا، گھرانہ بھی کیا صرف ایک باپ جو پیشے کے لحاظ سے گورکن تھا اور اس کی ماں فوت ہو گئی تھی، جب وہ چھوٹا سا تھا۔

Comments

comments

رزق کیلئے سورہ فاتحہ کا یہ عمل کریں
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top