Urdu

سعودی خواتین برقعہ پہنیں یا نہ پہنیں ہمیں کوئی مسلہء نہیں ہے

جب سے سعودی عرب شہزادہ سلمان کی بادشاہی میں آیا ہے ٹھیک اسی دن سے سعودیہ کے تھذیب و ثقافت میں کافی تبدیلی آئی ہے. وہ ملک جہاں پر خواتین کو گاڑی چلانے پر پابندی تھی آج اسی ملک میں خواتین بغیر کسی ڈر اور خوف کے گاڑیاں چلا رہی ہیں. وہ ملک جہاں پر کبھی کسی نے سر عام فحش کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کو نہیں دیکھا تھا آج اسی ملک میں شہزادہ سلمان کے کہنے پر سمندر کنارے ایک عالی شان بیچ بنایا جا رہا ہیں جہاں پر خواتین اور مرد بغیر کسی شرم و حیا کے کھلے عام جو چاہیں کر سکتے ہیں. اسکے علاوہ سعودی عرب میں جلدی ہی سینما گھروں کا بھی افتتاح کیا جائیگا جہاں پر سعودی فلمیں دکھائی جائیں گی.

ماضی میں جن جن شہزادوں نے بھی سعودی عرب کی حکومت سنمبھالی انہوں نے خواتین پر کپڑوں کی پابندی کا رواج برکرار رکھتے ہوۓ ہر عورت کیلیے عبایا یعنی برقعہ پہننا ایک ضروری عمل سمجھا تھا. جو بھی کوئی عورت گھر سے نکلتی وہ ہمیشہ اپنا سر اور بدن ڈھانپ کے نکلتی جو کہ اسلامی غرض سے سب سے بہترین عمل ہے.

لیکن حال ہی میں شہزادہ سلمان نے خواتین کے عبایا پہننے کو غیر ضروری کرار دیتے هوئے، سعودی خواتین کو کھلے عام ہر قسم کے کپڑے پہننے کی اجازت دے دی ہے. سعودی شہزادے کا کہنا ہے کہ جب تک آپکے کپڑے ٹھیک ہیں تب تک اپنے سر کو ڈھانپنے، نقاب کرنے، یا پھر پورے بدن کو کالے برقع سے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے.

شہزادہ سلمان کے اس اعلان کے بعد سعودی عرب میں خواتین کی فیشن میں کافی بدلاؤ دیکھنے میں آیا ہے. وہ ملک جہاں پر کبھی کوئی عورت ننگے سر نہ نکلی تھی آج اسی ملک میں عورتیں اب سادہ دوپٹہ لیکر باہر نکل جاتی ہیں. کچھ شہروں میں تو ماڈرن سعودی خواتین نے صبح صبح باہر نکل کر پتلوں یعنی جینز کی پینٹے پہن کر جاگنگ بھی شروع کر دی ہے.

Comments

comments

سعودی خواتین برقعہ پہنیں یا نہ پہنیں ہمیں کوئی مسلہء نہیں ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top