Urdu

سعودی ولی عہد پر حملہ ہوا کہ نہیں سعودی حکومت نے بالآخر چھپ کا روزہ توڑ ہی دیا

گزشتہ مہینے ایران اور روس کی اینٹیلیجنس  اداروں نے خبر دی تھی کہ سعودی عرب میں بغاوت کے دوران شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کو گولیاں لگی تھی جس کے بعد ان کو وہاں نے کسی نامعلوم جگہ پت منتقل کر دیا گیا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس حملہ میں مارے گئے ہیں کیونکہ اس واقعہ کے بعد ان کی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو یا ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی جس سے اس بات کا علم ہو سکے کہ وہ زندہ ہے ۔ اور نہ ہی سعودی عرب کے کسی داخلی محکمہ نے اس بات کی کوئی تصدیق یا تردید کی ہے ۔ جب کہ مقامی

لوگوں کا کہنا تھا کہ  محل پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد محل کی سیکیورٹی  نے مختلف گاڑیوں کو نشانہ بنایا ۔ یرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامک ریوائیول پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد الماساری نے کہاکہ محمد بن سلمان پر حملہ اپریل کے مہینے میں کیا گیا تھاصحافی کا کہنا تھا کہ 21 اپریل کو شاہی محل کے باہر گولہ باری کی گئی تھی جس کے بعد سعودی عرب کیسرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ دراصل یہ فائرنگ ایک کھلونہ ڈرون کو مار گرانے کے لئے کی گئی تھی ۔ اور یہ ڈرون غلطی سے شاہی محل میں

گھس آیا تھا جس کے بعد ایمرجنسی کی وجہ سے اس پر شدید فائرنگ کی گئی تا کہ اسے مار گرایا جائے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرون سے کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی ۔ بلکہ کچھ گاڑیوں سے ہوئی تھی جن کو سیکیورٹی نے جوابی فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے مار گرایا ۔ اس سے پہلے بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ولی عہد نے کئی سارے ایسے کام ایک ساتھ شروع کر دئے تھے جس کی وجہ سے ان سے مقتدرہ کے بہت سے اعلی عہدے دار ناراض تھے اور اسلام پسندوں میں بھی اس کی اچھی شہرت نہیں تھی ۔

Comments

comments

سعودی ولی عہد پر حملہ ہوا کہ نہیں سعودی حکومت نے بالآخر چھپ کا روزہ توڑ ہی دیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top