Urdu

شہید بچے نے دفن ہونے سے پہلے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا

آج کی اس پوسٹ میں ہم آپکو ایک شہید بچے کی ویڈیو دکھانے جارہے ہیں جس نے دفن ہونے سے عین چند منٹ پہلے اپنے باپ کا ہاتھ کا پکڑ لیا. باپ نے جب چھڑانے کی کوشش کی تو پھر بھی اس شہید بچے سے باپ کا ہاتھ نہ چھوڑا. یہ مناظر دیکھ کر جنازے میں شریک لوگ چیخ اٹھے اور بلند آواز میں الله اکبر اور کلمہ طیبہ کا ورڈ کرتے رہے. ویڈیو دیکھیں:

اسلام میں شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اور قرآن مجید کے مطابق شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اللہ ان کو رزق بھی دیتا ہے۔ شہید کو احادیث نبوی کی روشنی میں سمجھیں: ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:ما تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ فِیکُمْ؟ تُم لوگ اپنے(مرنے والوں ) میں سے کِسے شہید سمجھتے ہو؟

صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رَسُولَ اللَّہِ من قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔ اے اللہ کے رسول جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا جاتا ہے (ہم اُسے شہید سمجھتے ہیں )، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:انَّ شُہَدَاء َ اُمَّتِی اذًا لَقَلِیلٌ۔ اگر ایسا ہو تو پھر تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا:فَمَنْ ہُمْ یا رَسُولَ اللَّہِ؟ اے اللہ کے رسول تو پھر شہید(اور)کون ہیں؟

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:مَن قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الطَّاعُونِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الْبَطْنِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔ “جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا گیا وہ شہید ہے،اورجو اللہ کی راہ میں نکلا (اور کسی معرکہِ جِہاد میں شامل ہوئے بغیر مر گیا یا جو اللہ کے دِین کی کِسی بھی خِدمت کے لیے نکلا اور اُس دوران )مر گیا وہ بھی شہید ہے اور اور جو طاعون (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے، اورجو پیٹ (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے۔ قال بن مِقْسَمٍ اَشْہَدُ علی اَبِیکَ فی ہذا الحدیث اَنَّہُ قال۔ عبید اللہ ابن مقسم نے یہ سُن کر سہیل کو جو اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کے ذریعے روایت کر رہے تھے، کہا، میں اِس حدیث کی روایت میں تمہارے والد کی (اِس بات کی درستی)پرگواہ ہوں اور اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: “وَالْغَرِیق ُ شَہِیدٌ ” ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے۔

وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ١٥٤؁ ’’ اور مت کہو انہیں مردہ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کاشعور نہیں ‘‘ ( سورہ بقرہ :154) غزوہ بدر کے بعد نازل ہونے والی اس آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایک طرف تو اللہ تعالی خود فرما رہا ہے کہ ’’ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں ‘‘ یعنی جو قتل کردیا گیا وہ مر گیا، لیکن تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، ساتھ اس بات کو بھی بیان کردہ گیا کہ انسانوں کو اس زندگی کا شعور نہیں، گویا یہ زندگی اس طرح کی زندگی نہیں جیسا کہ اس دنیا میں ہوتی ہے اورجس کا انسانوں کو شعور ہوتا ہے۔

غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہو گئے ، انکی والدہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں، ملاحظہ فرمائے یہ حدیث : حدثني عبد الله بن محمد حدثنا معاوية بن عمرو حدثنا أبو إسحاق عن حميد قال سمعت أنسا يقول أصيب حارثة يوم بدر وهو غلام فجائت أمه إلی النبي صلی الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله قد عرفت منزلة حارثة مني فإن يک في الجنة أصبر وأحتسب وإن تکن الأخری تری ما أصنع فقال ويحک أوهبلت أوجنة واحدة هي إنها جنان کثيرة وإنه لفي جنة الفردوس ’’ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حارثہ بدر کے دن شہید ہوئے تو وہ کمسن تھے ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ حارثہ کا مرتبہ میرے دل میں کیا ہے، اگر وہ جنت میں ہوا تو میں صبر کروں گی اور اگر دوسری جگہ ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے ویحک یا ھبلت فرمایا کیا جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہے۔ ‘‘( بخاری ، کتاب لجہاد و سیر، باب: نا معلوم تیر ۔ ۔ ۔ )

Comments

comments

شہید بچے نے دفن ہونے سے پہلے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top