Urdu

صرف یہ صورت پڑھیں 15 بار اور ہر کام اپنی مرضی سے ہو

انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے. اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا.بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی.

حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میںکوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ آخر وہ کونسی صورت ہے جس کو پڑھنے سے سب مسلے حل ہوجائے گے اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو ہوگی اس پر کلک کرکے دیکھیں اور شیئر

دی گئی ہے. ہماری روز مرہ زندگیوں میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں. معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے. اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں . ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے.اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں. گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو

آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ انداز میں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی.نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں. حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے

کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں. حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرقصرف نماز کا ہے. نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں. نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے.

Comments

comments

صرف یہ صورت پڑھیں 15 بار اور ہر کام اپنی مرضی سے ہو
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top