Urdu

علا ج مریضوں پر جب کو ئی دوا اثر نہ کرے تو اس مریض کے سرہانے بیٹھ کر

اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی ذات حلیم نہیں۔ وہ انتقام کے لیے جلدی نہیں کرتا اور گناہوں کی سزا میں رزق بند نہیں کرتا نہ اس شخص پر کوئی عذاب لاتاہے ۔

اس اسم پاک یا حلیم کے ذکر سے نہ صرف مرض کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے بلکہ یا سلام کے اضافے سے صحت بھی حاصل ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص بیمار ہو
اور بیماری شدت سے حملہ آور ہو رہی ہو اور مرض کی شدت کی وجہ سے مریض تکلیف میں ہو تو چاہئے

کہ ایسے مریض کے سرہانے بیٹھ کر1100مرتبہ اس اسم پاک کو اول و آخر11مرتبہ درود پاک کے ساتھ اس طرح پڑھنا چاہئے یا حلیم یا سلام۔۔۔اور پانی پر دم کرکے مریض کو پلایا جائے۔
ان شاء اللہ ایسا کرنے سے نہ صرف مریض کے مرض کی شدت میں کمی ہو گی بلکہ اگریا سلام بھی ساتھ لگایا ہے تو مریض کلی طور پر صحت یاب ہو جائے گا۔

ترقی کیا ہے؟ کیا صرف پورے ملک میں سڑکوں کا جال ترقی ہے؟ یا تمام شہروں میں میٹرو بسیں ترقی کا ثبوت ہیں یا ناردرن بائی پاس، اوور ہیڈ برج کو ہم ترقی کہہ سکتے ہیں؟ آپ میں تقریباً سب یا بیشتر اسے مکمل ترقی نہیں کہیں گے۔ تو پهر ترقی کیا ہے؟ کیا یہ کسی مبہم سی کیفیت کا نام ہے جو کبهی حقیقت کا جامہ پہن کر میری اور آپ کی نظروں کے سامنے نہیں آسکتی؟ جی نہیں! ایسا کچھ نہیں۔ ترقی اتنی مشکل نہیں جتنا ہم سمجهتے ہیں۔ ترقی بنیادی طور پر اپنے اندر بہت سے تصورات سموئے ہوئے ہے جن میں سے کچھ کلیدی تصورات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ خودانحصاری (Self Reliance)
یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ممالک اپنی بیشتر ضروریات خود اپنے وسائل سے پوری کرنے پر قادر ہوں۔ کامل خود مختاری ممکن نہیں تاہم قوم کو ایسے وسائل حاصل ہوں کہ دوسرے ممالک کو جن کی ضرورت ہو۔ مثلاً پاکستان چاول، کپاس اور نمک کی پیداوار میں، فرانس زیتون کی پیداوار میں، بنگلہ دیش ٹاٹ اور چاول کی پیداوار میں، کینیا چائے اور کافی کی پیداوار میں دنیا بهر میں مشہور ہے۔ خودانحصاری کےلیے ضروری ہے کہ قوم اپنے انسانی، قدرتی اور مالی وسائل کو پیداواری شعبوں میں اس طرح استعمال کرے کہ ترقیاتی مقاصد سرعت سے حاصل ہوسکیں۔ اسی طریقے سے اقوام ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان میں خودانحصاری سے مراد ایک عام آدمی کی نظر میں صرف یہ ہے کہ صرف ایک خاندان، ایک گروہ، ایک کمیونٹی ترقی کررہی ہے؛ باقی سب بیٹهے منہ تک رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، المیہ یہ ہے کہ صاحبانِ اقتدار بیرونی امداد اور ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپنے اثاثے جمع کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ بیرونی آشیرباد کی بدولت عوام کو بے روزگاری کے دلدل میں دهکیلتے ہوئے اس نہج پہ لاکهڑا کیا ہے کہ غریب عوام خودکشیاں کرنے اور بچے بیچ کر پیٹ کی آگ بجهانے پر مجبور ہیں۔ خودانحصاری ہی کی بدولت پاکستانی معاشرہ ترقی کی راہوں پر استوار کیا جاسکتا ہے کہ جب ملکی مالی و قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ملکی انسانی وسائل سے بهی استفادہ کیاجائے تاکہ کوئی شخص بےکاری کی کیفیت سے دوچار نہ ہو

Comments

comments

علا ج مریضوں پر جب کو ئی دوا اثر نہ کرے تو اس مریض کے سرہانے بیٹھ کر
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top