Urdu

’لڑکیاں ڈیٹنگ کی ویب سائٹس ہمسفر ڈھونڈنے کے لئے استعمال نہیں کرتیں بلکہ صرف اپنی۔۔۔‘ تازہ تحقیق میں ایسا انکشاف کہ مردوں کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے

اوسلو(نیوز ڈیسک) نوجوانوں کی بڑی تعداد خوبرو لڑکیوں سے دوستی کے لئے ڈیٹنگ ویب سائٹوں اور ایپس کی خاک چھانتی پھرتی ہے۔ ان میں سے اکثر کے لئے یہ محض لاحاصل جدوجہد ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حسین لڑکی واقعی انہیں گھاس ڈالے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

سائنسدانوں نے اس معاملے کی تحقیق کا فیصلہ کیا اور پتا یہ چلا ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد ’ٹنڈر‘ اور ’بمبل‘ جیسی ڈیٹنگ ایپس کو شریک حیات یا سچے دوست کی تلاش کے لئے استعمال ہی نہیں کرتیں بلکہ وہ تو ان ایپس کو محض اپنی خوبصورتی اور مقبولیت کو جانچنے کے لیے استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مردوں کی اکثریت ڈیٹنگ اپیس کو جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے استعمال کرتی ہے لیکن خواتین کی اکثریت اسے محض اپنی اناءکی تسکین کیلئے استعمال کرتی ہے اور انہیں دوستی یا محبت سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ جب مرد ان خواتین کے پروفائل کو دیکھتے ہیں اور ان میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں تو اس سے خواتین کو ایک قسم کی نفسیاتی تسکین حاصل ہوتی ہے اور وہ خود کو ملنے والی توجہ سے لطف اندوز ہوتی ہیں، بس یہی ان کا اصل مقصد ہوتا ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر مانس بینڈیکسن کا کہنا تھا کہ خواتین کے اکثریت ڈیٹنگ اپیس کو اسی لیے استعمال کرتی ہے کیونکہ جب مردوں کی توجہ انہیں ملتی ہے تو وہ ذہنی طور پر خود کو بہتر محسوس کرتی ہیں۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والے نارویجین یونیورسٹی آف سائنس کے پروفیسر ارنسٹ اولاف کا کہنا تھا کہ مردوں کی اکثریت ان اپیس کو مختصر مدتی تعلقات اور جسمانی خواہش کی تکمیل کے لیے استعمال کرتی ہے لیکن عورتوں کی اکثریت کی ان اپیس میں دلچسپی نفسیاتی و ذہنی تسکین کے حوالے سے ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران نارویجین یونیورسٹی کے 641طلبا و طالبات کے آن لائن ڈیٹنگ اپیس کے استعمال کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ ان طلبا و طالبات کی عمروں 19سے 29سال کے درمیان تھیں۔ یہ تحقیق آن لائن سائنسی جریدے ’پرسنالٹی اینڈ انڈویژﺅل ڈفرنسز‘ میں شائع کی گئی ہے۔

Comments

comments

’لڑکیاں ڈیٹنگ کی ویب سائٹس ہمسفر ڈھونڈنے کے لئے استعمال نہیں کرتیں بلکہ صرف اپنی۔۔۔‘ تازہ تحقیق میں ایسا انکشاف کہ مردوں کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top