Urdu

مرد کو تو حور ملے گے عورت کو کیا ملے گا

محترم ومعزز علماء کرام! ایک مسئلہ درپیش ہے. مسئلہ یہ ہیکہ مردوں کو جنت میں حوریں ملیں گیں۔ لیکن عورتوں کے لیے کیا ہوگا؟؟؟کیا ان کے لۓ بھی کسی انعام کا علان ہے قرآن و احادیث میں ؟؟؟ میرا اس سوال سےبہت سابقہ پڑتا ہے. اگر تو آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ مرد کو بہت سی عورتیں اور حوریں ملیں گی.

اور عورتوں کو کتنے مرد ؟؟؟؟؟؟ تو یہ انتہائی واہیات بات ہے اور میں جانتی ہوں کہ آپ مین سے کسی کا یہ مطلب نہیں ہو گا…لیکن اس بات کی بھی وضاحت کرتی چلوں عورت کے لیے جنت میں کیسے مرد ہونگے ؟ دیکھیں اس اردو کے نیچے ویڈیو میں شی

کیا دنیا میں کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ قابل قبول ہے کہ ایک عورت کے متعدد شوہر ہوں .اگرچہ یہ عادت یعنی پولی گیمی افریقہ کے بہت پرانے معاشروں میں اور ہندو مت میں بھی کسی صورت میں موجود رہی ہے. مگر ایک زرا سا بھی سمجھ دار اور غیرت مند شخص اس کے جواز کے لیئے کوئی رائے قائم کر سکتا ہے کیا.؟؟؟…….ہرگز نہیں ہرگز نہیں… پھر اللہ سے بڑا غیرت مند کون ہے .

اللہ سے بڑا عزت دار کون ہے …کیا اللہ کے ہاں ایسی بات کو گوارا کیا جا سکتا ہے …..یہ ایک لوجکلی جواب ہے …جو میں بہت سی شوخ اور شریر عورتوں کے سوال پر ان کو دیتی ہوں……آپ یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ دنیا میں دو یا تین یا زیادہ نکاح والی عورت کا کیا معاملہ ہو گا.تو مائی ڈیئرز عورت کو انشاءاللہ اختیار ہو گا کہ ان میں سے( اگر وہ سب مرد جنتی ہیں تو) کس کا ساتھ چاہتی ہے……

اگر مرد جہنمی ہوا تو اللہ اپنے نیک بندوں میں سے کسی سے اس کا نکاح فرما دے گا …وہاں زور زبردستی والا کوئی معاملہ نہ ہو گا .دنیاوی خصائل رزیلہ نہ ہوں گے .عورتیں مردوں کی محتاج نہ ہوں گی جیسے کہ دنیا میں ہوتی ہیں ..وہ اپنے نیک اعمال اور سب سے بڑھ کر اللہ کے فضل سے اپنی جنت کی مالک ہونگی اپنے محلات میں ہونگی.زن و شو کا تعلق ہو گا مگر تیرا میرا والی دنیاوی باتیں نہ ہونگی …

یہ وہ سب ہے جو انسانی عقل سمجھ سکتی ہے …اور اللہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے جنت میں ایسی ایسی نمتیں تیار کر رکھی ہین نیک لوگوں کے واسطے ،جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی…..واللہ اعلم بالصواب.ام عبیداللہ انسانی ذہن تجسس وہ سوالات کی آماجگاہ ہے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر انکے جوابات نہ دیے جائیں تو شکوک وشبہات

اپنی جگہ لینے لگتے ہیں یہ سوال بہت سے لوگ پوچھ چکے ہیں کہ جنت میں مردوں کو تو حوریں ملیں گی تو جو عورتیں ہوں گی انکو کیا ملے گا ؟ یہ ناانصافی نہ ہوگی کہ انکے لیے کوئی نہیں تو اس سوال کا مختصر پیرائے میں جواب قرآن و حدیث کے مطابق دینے کی کوشش کر رہی ہوں کمی بیشی پر اللہ سے معافی کی طلبگار ہوں اسلام ایک مکمل دین ہے

اس قدر مکمل کہ انسانوں کے حقوق سے لے کر جانوروں کے حقوق بھی اس دین نے ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں عورت کو جو مقام و مرتبہ اسلام نے دیا ہے وہ کوئی مذہب نہ دے سکا ! اب سوال کی جانب آتے ہیں جنت میں مرودوں کو تو حوریں ملیں گی مگر عورتوں کو کیا؟ اسکا جواب اس قدر مکمل اور خوبصورت کہ پھر کسی سوال کی ضرورت نہ رہے گی مردوں کو جہاں حوریں ملیں گی وہیں

عورتوں کے لیے بھی انعامات کا ذکر ہے *جنت میں داخل ہونے والی خواتین کو اللہ تعالی نئے سرے سے پیدا فرمائیں گے اور وہ کنواری حالت میں جنت میں داخل ہوں گی* جنتی خواتین اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی *جنتی خواتین اپنے شوہروں سے ٹوٹ کر پیار کرنے والی ہوں گی قرآن مجید میں ان تمام باتوں کو سورہ واقعہ میں اس طرح بیان کیا ہے إنا أنشأھن إنشاء 0 فجعلنھن ابکارا 0 عربا اترابا 0 لاصحاب الیمین 0 ( 56: 38-35 ) اہل جنت کی بیویوں

کو ہم نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنا دیں گے اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں اور انکی ہم ،یہ سب کچھ داہنے ہاتھ والوں کے لیے ہوگا (سورہ واقعہ) اہل ایمان میں مردوں کے ساتھ کوئی خاص معاملہ نہ ہوگا بلکہ ہر نفس کو اسکے اعمال کے بدولت نعمتیں عطا کی جائیں گی اور ان میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہ ہوگی اور جنت کی خوشیوں کی تکمیل خواتین کی رفاقت میں ہوگی

قرآن مجید میں فرمان الہی ہے أدخلو ا الجنة أنتم و ازواجکم تحبرون 0 (43 70 ) ترجمہ داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہیں خوش کر دیا جائے گا ” (سورہ زخرف ) جنت میں داخل ہونے والی خواتین اپنی مرضی اور پسند کے مطابق اپنے دنیاوی شوہروں کی بیویاں بنیں گی (بشرطیکہ وہ شوہر بھی جنتی ہوں) ورنہ اللہ تعالی انہیں کسی دوسرے جنتی سے بیاہ دیں گے

جن خواتین کے دنیا میں (فوت ہونے کی صورت میں ) دو یا تین یا اس سے زائد شوہر رہے ہوں ان خواتین کو اپنی مرضی اور پسند کے مطابق کسی ایک کے ساتھ بیوی بن کر رہنے کا اختیار دیا جائے گا جسے وہ خود پسند کرے گی اس کے ساتھ رہے گی _حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم ہم میں سے بعض عورتیں (دنیا میں) دو ،تین یا چار شوہروں سے یکے بعد دیگرے نکاح کرتی ہے اور مرنے کے بعد جنت میں داخل ہو جاتی ہے وہ سارے مرد بھی جنت میں چلے جاتے ہیں تو ان میں سے کون اسکا شوہر ہو گا ؟

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے ام سلمہ ! وہ عورت ان مردوں میں کسی ایک گا انتخاب کرے گی اور وہ اچھے اخلاق والے مرد کو پسند کرے گی _ اللہ تعالی سے گزارش کرے گی “اے میرے رب ! یہ مرد دنیا میں میرے ساتھ سب سے زیادہ اخلاق سے پیش آیا لہذا اسے میریے ساتھ بیاہ دیں (طبرانی النھایہ لابن کثیرفی الفتن والملاحم الجز الثانی رقم الصفحہ 387 ) جنت میں حوروں سے افضل مقام نیک صالح عورت کو حاصل ہوگا مرد کو حوریں ملیں گی

تو نیک مرد کی نیک بیوی ان حوروں کی سردار ہوگی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم ! یہ فرمائیے کہ دنیا کی خاتوں افضل ہے یا جنت کی حور ؟ ” آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دنیا کی خاتون کو جنت کی حور پر وہی فضیلت حاصل ہو گی جو ابرے (باہر والا کپڑا) کو استر (اندر والا کپڑا ) پر حاصل ہوتی ہے (طبرانی مجمع الزوائد الجز ء العاشر ،رقم الصفحہ (418-417 ) یہ ان انعامات کو مختصر سے بھی مختصر حصہ ہے جو جنت میں عورتوں کو عطا کیے جائیں گے

جنتی عورت بیک وقت ستر جوڑے پہنے گی جو بہت عمدہ اور نفیس ہوں گے جنتی عورتیں حسن وجمال اور حسن سیرت کے اعتبار سے بے مثال ہوں گی _ عورت کے اندر فطری طور پر حیا کا مادہ مرد کی نسبت زیادہ ہے اور وفاداری و محبت بھی خالص ایک کے لیے رکھتی ہے اور حسن و جمال اور زینت کو پسند کرتی ہے ان تمام باتوں کی مناسبت سے جنت میں یہ عیش کریں گی اور نیک عورتیں حوروں پر افضل ہوں گی سورہ الرحمن میں اللہ رب العزت کا یہ فرمان پھر دلوں کو سحر زدہ کر دیتا ہے فبای آلاء ربکما تکذبان 0 “پس تم اپنے رب کی کونسی کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ” تمت باخیر..وما علینا الاالبلاغ المبین.

Comments

comments

مرد کو تو حور ملے گے عورت کو کیا ملے گا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top