Urdu

موت برحق ہے

میں اپنے علاقے کا سب سے پرانا درزی تھا اور میرے تمام محلے والے مجھے بخوبی جانتے تھے۔ میرا اچھا خاصا کاروبار چل رہا تھا۔ کیونکہ میں سب سے پرانا درزی تھا اور میرے کاریگر تعداد اور کولٹی دونوں میں علاقے کے باقی تمام درزیوں سے کہیں زیادہ تھے تو میرا کاروبار کافی چمکا ہوا تھا۔ ایک دن میں بیٹھا ایک نئے کریگر کو لعن طعن کر رہا تھا کہ ایک انتہائی خوبصورت انیس بیس سال کا نوجوان دکان میں داخل ہوا اور میرے سے مخاطب ہوا کہ ماسٹر جی یہ میرے کپڑے لے لو اور ان کا ایک نفیس

Comments

comments

موت برحق ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top