Urdu

ناکام محبت اصلی محبت ہے

ایک لڑکا ایک لڑکی سے بے انتہا محبت کرتا تھا، یہ آج کی بات نہ تھی وہ تو سالوں سے اس کے عشق میں پاگل تھا. پورا محلہ جانتا تھا کہ اس لڑکے کو اس لڑکی سے پیار تھا.

وہ لڑکا اتنا صاف اور پاک عشق کرتا تھا کہ اسے سچ مچ محسوس ہوتا تھا کہ ان کا مقدس رشتہ وقت اور زمانے کی قید سے آزاد تھا، اسے وہ لڑکی صدیوں پر محیط لگتی تھی اور لگتا تھا جیسے وہ اسے جنم جنم سے جانتا ہو . اس کی ان کہی باتوں کو سمجھ سکتا ہو. اس کی حالت سے سب یار دوست آشنا تھے. ایک دن اس کا ایک دوست بولا : تم اس سے اتنی شدید محبت کرتےہو

ہمیں رشک آتا ہے یار. اس کو جا کر بتاؤ تو سہی کہ تمہارے دل کا کیا حال ہے.باقی دوستوں نے بھی تائید میں سر ہلایا. لڑکے نے سوچا کہ ٹھیک ہے، اس لڑکی کا بھی حق بنتا ہے کہ اسے بھی پتہ چلے. لڑکا ٹیولپس کا ایک گلدستہ لیکر لڑکی کے پاس گیا اور اس کو اپنے دل کی حالت بتائی. لڑکی پہلے سے جانتی تھی کہ وہ لڑکا اس سے بہت پیار کرتا تھا، سارے جہان میں مشہور

تھا، ہر ایک کو پتہ تھا. عشق مشک ویسے بھی چھپائے نہیں چھپتے…اپنی مہک ہر طرف پھیلا دیتے ہیں. لڑکے نے لڑکی سے اعتراف محبت کیا اور لڑکی نے بتایا کہ میں جانتی ہوں لیکن میں تمہارے بارے میں اس طرح نہیں سوچتی. لڑکا مسکرایا اور چلا گیا. اس کے دوستوں کو پتہ لگا تو بہت پریشان ہوئے کہ اس کی زندگی کا محور اس کی پاکیزہ محبت تھی پتہ نہیں اب یہ کیا

کر گزرے. وہ دن رات یس کے ہمراہ رہنے لگے کہ کہیں لڑکا خلوت میں کوئی شدید قدم نہ اٹھا لے. کافی دن گزر گئے وہ حیران تھے لڑکا اب بھی اسی طرح ہنستا مسکراتا رہتا تھا، نہ اس نے مجنوں کی طرح بال بڑھائے نہ شیو…کبھی کبھار ابھی بھی اس لڑکی کی بات بہت شیرینی سے کرتا. دوست سمجھ گئے کہ یہ اب بھی اس کے عشق میں اندھا ہے، وہ لڑکی کوئی حسینہ یا ابصرہ بھی نہ تھی، یہ اب بھی اسے طرح اس کا نام سن کر ہی ہنسنے لگتا تھا. ایک دوست نے پوچھ ہی لیا کہ تم کیا کر رہے ہو.

اس نے نہ بول دی، تو نے برا نہیں منایا، نہ تو رویا، نہ تو نے بدلہ لیا اور آج بھی تو اس کا اسی طرح فین ہے. ہماری سمجھ میں تیری کوئی حرکت نہیں آتی. تجھے برا نہیں لگا اس لڑکی نے نہ کر دیا….لڑکا بولا: میرے دماغ میں اس کا جو ہیولا ہے وہ ہمیشہ ایک پاکیزہ پری جیسا ہی رہے گا کیونکہ میری اس سے محبت اصلی ہے. اور وہ مجھے پسند نہیں کرتی تو اس میں میرا کیا نقصان ہے. نقصان اس کا ہوا کہ کوئی تو تھا جو اس کی اتنی فکر کرتا تھا اور وہ اس لڑکے کو خود کھو رہی ہے. وہ تو مجھے کبھی بھی پسند نہیں کرتی تھی تو میں نے بھلا کیا

کھویا.کچھ سوکھے ہوئے پتے تھے میری آخری پونجیاب وہ بھی نہیں ہے کہ بہت تیز ہوا ہےمحبت کا مطلب ہے دینا….اور دینا….اور دینا…بغیر کسی صلے کی امید کے. یہ لازوال محبت ہوتی ہے جو انسان کو قوت دیتی ہے اور اسے خلیفہ بناتی ہے.د

مسلم لیگ ن کے سینیٹرمشاہداللہ خان نے فیض آباددھرنے کے متعلق سوال کیاجس کے جواب میںآرمی چیف نے کہا کہ اگرثابت ہوگیا کہ دھرنے کے پیچھے فوج تھی مستعفی ہوجاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ دھرناہواتومیرے ذہن میں لال مسجدکاواقعہ بھی آیا۔میں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ دھرنے والوں سے بات کریں۔بات ہوئی توپتہ چلاان کے چارمطالبات ہیں پھروہ ایک مطالبے پرآگئے۔سعودی

عرب جاتے ہوئے بھی دھرنے سے متعلق معلومات لیتارہا۔لاپتہ افرادکے حوالے سے سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ لاپتہ افرادکی مختلف وجوہات ہیں۔کچھ لوگ خودغائب ہوکرلاپتہ ظاہرکرواتے ہیں ۔ایجنسیاں صرف ان لوگوں کوتفتیش کے لیے تحویل میں لیتی ہیں جوملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔اجلاس میںآرمی چیف باربارزوردیتے رہے کہ پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے۔آرمی

چیف نے کہا کہ آپ لوگ پالیسی بنائیں ہم عمل کریں گے۔ہم نے دیکھناہے آج کیاہورہاہے، آج کیاکرنے کی ضرورت ہے۔ماضی میں جانے کاکوئی فائدہ نہیں۔سینٹ ہول کمیٹی میں ڈی جی ملٹری آپریشنزنے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں نے اب تک ۴۷۲ مقدمات کافیصلہ کیاایک سواکسٹھ مجرموں کوسزائے موت جب کہ چھپن کوپھانسی دی گئی۔تیرہ مجرموں کوآپریشن ردالفساد سے

پہلے جب کہ ۳۴کودوران آپریشن پھانسی دی گئی۔ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایاگیا کہ سات جنوری کوفوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات پرکارروائی روکی گئی اٹھائیس مارچ کوفوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کردی گئی۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ جنرل قمرجاویدباجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعدفوجی عدالتوں کوایک سوساٹھ مقدامت بھجوائے گئے جن میں سے ۳۳ پرفیصلہ

سنایاگیا۔آٹھ کوسزائے موت اورپچیس کوقیدکی سزاسنائی گئی۔ایک سوبیس مقدمات انیس نومبرسال دوہزارسترہ کوفوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے۔بریفنگ کے اختتام پرصحافیوں نے آرمی چیف سے سوال کیا کہ آج آپ کاپارلیمنٹ میں دن کیساگزرا۔آرمی چیف نے جواب دیاکہ دن بہت اچھاگزرا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری عمل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ملکی استحکام کے لیے سب کومل کرکام کرناہے۔فوج

اپنی آئینی حدودمیں رہ کرکام کررہی ہے۔ہم بیرونی سازشوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پردھرنے والوں کوپیسے بانٹے گئے۔پاکستان کے ایوان بالاکے ارکان کویقین دلایاہے کہ اگریہ ثابت ہوجائے کہ فیض آبادھرنے کے پیچھے فوج کاہاتھ تھاتووہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹرنہال ہاشمی نے سینٹ

کے ان کیمرہ اجلاس کے بعدمیڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کے سربراہ نے یہ بات سوال وجواب کے سیشن کے دوران مشاہداللہ خان کے سوال کے جواب میں کہی۔نہال ہاشمی کے مطابق مشاہداللہ خان نے آرمی چیف سے پوچھا کہ اسلام آبادمیں دھرنادینے والوں کوکھاناکون سپلائی کرتاتھا۔جس پرجنرل قمر جاوید باجوہ نے جواب دیا کہ اگریہ ثابت ہوجائے کہ دھرنے کے پیچھے

فوج کاہاتھ ہے تووہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔آرمی چیف کایہ بھی کہناتھا کہ انہوں نے انٹرسروسزانٹیلی جنس کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ اس دھرنے کوختم کرے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کے چارمطالبات تھے۔لیکن وہ وزیر قانون زاہدحامدکے استعفے کامطالبہ کرنے لگے۔آرمی چیف کاکہناتھا کہ انہوں نے اگلے روزبھی وزیراعظم کے ہمراہ سعودی عرب جاناتھا اس لیے وہ چاہتے

تھے کہ سعودی عرب روانگی سے قبل اس دھرنے کوختم کروایاجائے۔سنیٹرنہال ہاشمی نے حکمراں جماعت کے پہی سنیٹرپرویزرشیدکی طرف سے فوج کی طرف سے جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ سعیدکی سرپرستی بارے سوال کیا۔جس کاآرمی چیف نے نفی میں جواب دیا کہ فوج حافظ سعیدکی سرپرستی نہیں کررہی۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف کاکہناتھا کہ حافظ سعیدبھی مسئلہ کشمیرکے حل کے

لیے اتنے ہی سرگرم ہیں جتناایک عام پاکستانی۔جنرل قمرجاویدباجوہ کاکہناتھا کہ حکومت جوبھی خارجہ یادفاع سے متعلق پالیسی بنائے گی فوج اس کے ساتھ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فوج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار اداکرے گی۔اورحکومت فوج کوجوبھی حکم دے گی اس پرمن وعن عمل ہوگا۔اجلاس کے دوران سینٹ کے ارکان نے یقین دلایا کہ دہشت گردی کے خاتمے اورملکی

سلامتی کے لیے سویلین اورفوجی ادارے ایک ہی پیج پرہیں اوراگرملک کوکوئی خطرہ لاحق ہواتوپوری قوم فوج کے شانہ بشانہ لڑے گی۔میڈیارپورٹ کے مطابق سوال وجواب کے سیشن کے دوران پیپلزپارٹی کے سینیٹرفاروق ایچ نائیک نے آرمی چیف سے سوال کیاکہ کیافوج کوموجودہ رول سے بڑھ کرکردار چاہیے جس پرانہوں نے واضح جواب دیا کہ فوج کاآئین میں جوکردارہے اس سے

مطمئن ہوں فوج آئین کے مطابق اپناکرداراداکررہی ہے اورکرتی رہے گی۔سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہدحسین سیّدنے کہا کہ آرمی چیف کی بریفنگ کے دوران قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ،امریکاسے تعلقات، افغان حکمت عملی،بھارت، مشرق وسطیٰ کے مسائل اورملک کے اندرونی معاملات سمیت سب پربات ہوئی۔پیپلزپارٹی کے سینیٹرفاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرمی چیف

نے طویل بریفنگ دی اوریہ پہلی بارہوا۔انہوں نے ہرچیزپرکھل کربات کی۔تمام سینیٹرزنے سوالات کیے۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے بڑے تحمل مزاجی کے ساتھ جواب دیے۔جہاں جہاں ڈی جی آئی ایس آئی کی ضرورت پڑی انہوں نے بھی بات کی اورآج سب کے خدشات دورہوگئے ہیں۔سینیٹرآصف کرمانی نے کہا کہ آرمی چیف نے سینیٹ کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی باربریفنگ دی اوراس بریفنگ سے ملکی

معاملات سمجھنے میں آسانی ہوئی ۔سینیٹ اورپاک فوج کی طرف سے خوش آئندقدم اٹھایاگیاایسے اقدامات مستقبل میں بھی ہونے چاہییں۔مسلم لیگ ن کے سینیٹرپرویزرشیدکاکہناتھا کہ دونوں طرف سے کھل کربات ہوئی۔کھل کرسوال کیے گئے انہوں نے اپناکھل کرموقف پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے تھے ان کے سامنے ریاست کاایک ادارہ اپنے آپ کوجواب دہ سمجھتاہے۔اس ادارے نے عوام کے منتخب نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیے ہیں یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔جوپاکستان میں شروع ہوئی۔اس سے جمہوریت پرلوگوں کااعتمادبڑھے گا۔پاکستان

Comments

comments

ناکام محبت اصلی محبت ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top