Urdu

نماز عصر کا زبردست وظیفہ دیکھیں ویڈیو میں

ے شک رب تعالیٰ نے اپنے ذکر میں سکون اور عافیت رکھ دی ہے ۔ اکثر اوقات لوگ دعائیں پوری نہ ہونے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیںجس کی وجہ دراصل دعا اور عبادت میں خشوع و خضوع کا نہ ہونا ہوتا ہے۔ دعا کو عبادت کا زیور قرار دیا گیا ہے مسلمان دعا کے ذریعے اپنی مرادیں رب تعالیٰ سے مانگتے ہیں آج کل پاکستان میں بیروزگاری ایک عام مسئلہ ہے، پڑھے لکھے افراد ملازمت نہہونے کی وجہ سے در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ یہاں ہم ایسے ہی بیروزگار نوجوانوں کو ایک اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو ہوگی وہاں دیکھیں عصر کی نماز کے بعد کا وظیفہ

مجرب وظیفہ بتانے جا رہے ہیں جس کے کرنے سے انشا اللہ انہیں من پسند ملازمت اور روزگار رب تعالیٰ نصیب فرمائیں گے۔ بیروزگار افراد روزانہ نماز عصر کے بعد اول و آخردرود شریف کے بعد اکتالیس بار’’یا اللہ یا باسط‘‘پڑھیں، انشا اللہ یہ عمل کرنے سے رب تعالیٰ آپ پراپنے خزانے کے منہ کھول دیں گے۔ ”روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری جبرائیل نے امامت کرائی بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ، تو انہوں نے نماز پڑھائی مجھ کو ظہر کی جب کہ سورج ڈھل گیا اور سایہ بقدرتسمہ جوتی کے ہو گیا تھا، اور نماز پڑھائی مجھ کو عصر کی جب سایہ ہر چیز کا اس کے برابر ہو گیا تھا”۔

یہ حدیث صریح دلالت کر تی ہے کہ عصر کی نماز کا وقت ایک مثل پر ہو جاتا ہے، جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو عصر کی نماز ایک مثل ہو جانے پر پڑھائی۔ قرآن مجید میں جہاں اور نمازوں کی محا فظت کی تاکید فرمائی ہے، وہاں عصر کی نماز کی خصوصیت سے تاکید فرمائی ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ”حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ”(البقرۃ:۲۳۸)۔ ”مسلمانو! تمام نمازوں کی محافظت کرو اور خاص کر نماز وسطیٰ( عصر )کی”۔

ظاہر ہے کہ نمازوں کی حفاظت ان کے اوقات کی بھی محافظت ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ عشاء کی نماز کے علاوہ اور سب نماز پنجگانہ اول وقت پر پڑھتے تھے۔ چنانچہ سید الطائفہ احنافِ دیوبند مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہاں وقت مثل، بندہ کے نزدیک زیادہ قوی ہے۔روایت حدیث سے ثبوت مثل کا ہوتا

ہے۔دو مثل کا ثبوت حدیث سے نہیں، بناء علیہ ایک مثل پر عصر ہو جاتی ہے۔گو احتیاط دوسری روایت میں ہے”۔(مکاتیب رشیدیہ ص: ۲۲) نیز مولانا موصوف اپنے فتاویٰ رشیدیہ ص۹۸ میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ”ایک مثل کا مذہب قوی ہے ،لہٰذا اگر ایک مثل پر عصر پڑھے تو ادا ہو جاتی ہے۔اعادہ نہ کرے ”۔و اللہ تعالیٰ اعلم۔ نیز آپ کی سوانح عمری ”تذکرۃ الرشید” کے ص:۱۴۶؍ج۱ میں لکھا ہے:”کہ بعد ایک مثل کے وقت عصر ہو جانا مذہب صاحبین اور ائمہ ثلاثہ علیہم الرحمۃ کا ہے” یہی مولانا موصوف اپنے ”مکاتیب رشیدیہ” ص:۸۹ میں دربارۂ مذاہب ائمہ ثلاثہ امام شافعی ،

امام مالک، و امام احمد بن حنبل علیہم الرحمۃ لکھتے ہیں: ”مذاہب سب حق ہیں مذہب شافعی پر عند الضرورت عمل کر نا کچھ اندیشہ نہیں، مگر نفسانیت اور لذت نفسانی سے نہ ہو، عذر یا حجت شرعیہ سے ہو کچھ حرج نہیں۔ سب مذاہب کو حق جانے، کسی پر طعن نہ کرے سب کو اپنا مام جانے”۔بنابریں بقول مولانا جب عصر کا وقت مثل پر ہو نا امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل علیہم الرحمۃ کا مذہب ہوا، تو اب اس کے حق و صحیح ہو نے میں کیا شک

و شبہ ہے ،بلکہ یہی مذہب امام ابو یوسف و امام احمد و امام ابو حنیفہ علیہم الرحمۃ کا ایک روایت سے ثابت ہے، جیسا کہ شامی و غیرہ کتب فقہ میں لکھا ہے۔

Comments

comments

نماز عصر کا زبردست وظیفہ دیکھیں ویڈیو میں
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top