Urdu

نیند کی حالت میں جسم کا مفلوج ہونا، بلندی سے گرنے کا احساس ہونا یہ سب کیوں ہوتا ہے

انسان کے پورے جسم کا درست طریقے پر کام کرنے کے لئے دماغ کا درست ہونا ضروری ہے اس وجہ سے دماغ کو حکمران بھی کہا جاتا ہے ۔ دراصل دماغ انسان کے پورے نظام کو سنبھالتا ہے اور کسی بھی کام کے لئے احکامات یہی سے صادر ہوتے ہیں اور تمام امور کو اپنے قابو میں رکھتا ہے ۔ یہ دماغ ایک عجیب مشین ہے جو کہ طرح طرح کے کارنامے سر انجام دیتا ہے ، یہ سونے اور جاگنے کی صورت میں کام کر رہا ہوتا ہے لیکن سوتے ہوئے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ دماغ جاگ رہا ہوتا ہے اور اس کا اختیار جسم  پر ختم ہو جاتا ہے ۔ جس کو سوتے ہوئے فالج کا ہو

جانا کہتے ہیں ۔ ہم میں سے اکثر کو اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے ۔ مثلا سوتے ہوئے لگتا ہے کہ کوئی گلا دبا رہا ہے ۔ اونچی آوازیں سنائی دینا ، بلندی سے گرتے ہوئے خود کو محسوس کرنا ، خود کو مردہ سمجھنا ، ایسے لگنا جیسے کوئی جنات وغیرہ حاوی ہوتے جا رہے ہیں ۔  یہ تمام علامات اس فالج کی ہے اور یہ کیوں ہوتا ہے اس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ یہ نفسیاتی مسائل کی بھی وجہ ہوسکتی ہے یا دن میں اگر ہمیں کسی خوف کا سامنا ہوا ہو تو وہی رات کو خواب میں ہوتا

ہے ۔ دراصل نیند کی دو کیفیتوں کے درمیان کی حالت میں یہ فالج ہوتا ہے ۔ انسان جب سو رہا ہوتا ہے تو اس کی نیند  میں ایک مرحلہ آتا ہے جب وہ گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور بعض دفعہ یہ نیند گہری نہیں ہوتی ۔ تو جب انسان گہری نیند سے نکل رہا ہوتاہے یا  پھر گہری نیند میں جانے لگ جاتا ہے ۔ تو اس وقت یہ فالج حملہ آور ہوتا ہے ۔ اور دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے ۔ لیکن یہ عارضی ہوتا ہے ڈاکٹروں کے مطابق اس کی وجہ یا تو بالکل سیدھے لیٹنا ہے یا پھر بالکل الٹ لیٹنا ہوتا ہے اس کی وجہ سے بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو اسلام نے اس بیماری سے بچنے کا علاج بھی بتا دیا ہے ، کہ سونے کے لئے کروٹ کی پوزیشن استعمال  کی جائے دائئے کروٹ لیٹا جائے ۔ پاوں کا تھوڑا سا پیٹ کی طرف لایا جائے اور چہرے کے نیچھے اپنا ہاتھ رکھا جائے تا کہ منہ بند رہے ۔ اگر کسی کو اس طرح کا مسئلہ پیش آرہا ہے تو اسے چاہئے کہ سوچوں اور فکروں سے اپنی جان چھڑائے ۔

Comments

comments

نیند کی حالت میں جسم کا مفلوج ہونا، بلندی سے گرنے کا احساس ہونا یہ سب کیوں ہوتا ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top