Urdu

پاکستان میں اگر روکھ تھام نہ کیا گیا تو پورے ملک میں قحط ہو جائے گا ۔ سائنسدانوں کا انکشاف

پوری دنیا کے سائنسدان اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ ان کے ممالک اپنے غحذائی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے اوران کی اپنی زمین سے ہی اتنا اناج نکلے جو کہ ان کے لوگوں کے کافی ہو سکے ۔ اس کے لئے طرح طرح کے ادویات اور کھادوں کا استعمال ہوتا ہے لیکن اب سائنسدان پریشان ہے کیونکہ ایک خاص کی قسم پھپوندی پر کسی قسم کا زہر اثر نہیں کر رہا اور اس کی وجہ سے کافی فصلیں تباہ ہورہی ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو مستقبل میں عالمی سطح پر غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔

حالیہ تحقیقات کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انسانی بیماریاں پید اکرنے والے بہت سے بیکٹیریا ادویات کے خلاف اپنی مزاحمت بڑھارہے ہیں اسی طرح فصلوں پر حملہ کرنے والے جراثیم اور ایک خاص قسم کی پھپھوندی بھی جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت پید اکررہی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی مزاحمت بڑھتی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب کسی بھی قسم کی جراثیم کش ادویات کا ان پر اثر نہیں ہوگا، نتیجہ یہ ہوگا کہ فصلوں کو ان مضر کیڑوں سے بچانے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہے گا اور دنیا بھر میں فصلوں کے بڑے پیمانے پر نقصان کے نتیجے میں قحط کا سماں پیدا ہوجائے گا۔

ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی یہ پھپھوندی صرف فصلوں کے لئے ہی نہیں بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی براہ راست خطرہ ثابت ہوگی۔ اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ پہلے ہی مضر صحت پھپھوندی کے باعث ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی تعداد ملیریا اور بریسٹ کینسر جیسی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔

حالیہ تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر میتھیو فشر کا کہنا تھا کہ بیکٹیریامیں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پر تو بہت بڑے پیمانے پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اینٹی بائیوٹک کے خلاف پھپھوندی کی مزاحمت کے مسئلے کو عموماً نظر انداز کیا گیاہے۔ اب یہ خطرہ فصلوں اور انسانی صحت کے لئے سنگین ہوچکا ہے اور فوری طور پر اس کا کو ئی حل نہ ڈھونڈا گیا تو نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

Comments

comments

پاکستان میں اگر روکھ تھام نہ کیا گیا تو پورے ملک میں قحط ہو جائے گا ۔ سائنسدانوں کا انکشاف
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top