Urdu

پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہوں پر کیسے ہراساں کیا جاتا ہے

پاکستان میں دفاتر اور یونیورسٹیوں میں صنفی تعصب اور جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک معمول کی بات تصور کی جانے لگی ہے.

صنفی تعصب، سب کی نظروں میں، مگر پوشیدہ

پاکستان میں کام کرنے کی جگہوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی طور پر ہراساں کیا جانا، استحصال، اور تفریق عام ہے۔ 300 خواتین سے کیے گئے ڈان کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہیں اکثر رپورٹ نہیں کیا جاتا اور سینیئر مینیجرز کی جانب سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے بارے میں خاموش رہنے کے لیے کہا گیا تھا، تو 61 فی صد نے کہا کہ ان کے مالکان نے ان پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا تھا، جبکہ 35 فیصد خواتین نے کہا کہ ان کے ساتھیوں اور باسز نے انہیں خاموش رہنے کے لیے کہا تھا۔

کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں آن لائن سوالناموں اور انٹرویوز کے ذریعے کیے گئے سروے میں مختلف شعبوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے جوابات اکھٹے کیے گئے تاکہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے، اور جانا جا سکے کہ آیا کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف پالیسیاں موجود ہیں یا نہیں۔

لیکن پھر بھی جب بات ہو باقاعدہ رپورٹ کرنے کے طریقوں کی، تو خواتین کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کو اس طرح کے مکینزم پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ ہراساں کی گئی صرف 17 فیصد خواتین نے ہی اپنے اداروں کی اندرونی انکوائری کمیٹیوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

59 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ ہراساں کرنے کو سنجیدگی سے لیتی ہے مگر پھر بھی زیادہ تر خواتین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کے مینیجرز ہراساں کرنے والوں پر پابندی عائد نہیں کریں گے اور ان کے کام کرنے کی صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی۔ زیادہ تر خواتین محسوس کرتی ہیں کہ تحقیقات کے دوران ان پر یقین نہیں کیا جائے گا خاص طور پر تب جب ہراساں کرنے والوں کو اوپر تک رسائی حاصل ہو۔

ایک سرجن کی پیشکش

شعبہءِ طب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے صنفی تعصب کے زہریلے کلچر کی کئی کہانیاں سنائیں۔ کچھ نے زمانہءِ طالبِ علمی میں اپنے جسموں کے بارے میں جملوں اور تبصروں کا سامنا کیا جبکہ ان کی ساکھ کے بارے میں بھی تبصرے کیے جاتے تھے۔ ایک خاتون کے مطابق “وہ ہمارے جسم کو ایک سے لے کر 10 کے پیمانے پر پرکھتے تھے۔”)

کچھ (خواتین) ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انہیں ترقیاں یہ کہہ کر نہیں دی گئیں کہ وہ اپنے مرد ساتھیوں سے “کم تجربہ کار” یا “ان جتنی پرعزم” نہیں تھیں، یا پھر اس لیے کیوں کہ انہوں نے جنسی مطالبوں کو پورا نہیں کیا تھا۔ وہ خواتین جو کام کی جگہوں پر غلط رویے کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں انہیں ذہنی مریض، جھوٹا، اور رونے دھونے والا قرار دیا جاتا ہے۔

ایک یونیورسٹی ہسپتال کی سابق میڈیکل طالبہ کے مطابق ان کے پروفیسر، جو کہ مشہور آرتھوپیڈک سرجن تھے، اکثر انہیں غیر مطلبوبہ توجہ دیتے۔ ایک دفعہ انہوں نے اس وقت طالبہ کو پیشکش کی جب وہ ان کی زیرِ نگرانی ایک آپریشن کر رہی تھیں۔ “وہ آپریٹنگ روم میں میرے اتنا قریب آ کھڑے ہوئے، بالکل کندھے سے کندھا ملا کر۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپریشن کرتے ہوئے میں نے اپنی انگلی کاٹ لی تب بھی مجھے واپس انہی کے پاس آنا پڑے گا۔ جب آپ [سرجیکل] ماسک پہنے ہوئے ہوں تو آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی ڈاکٹر آپ سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔”

“لڑکیوں کو ہمیشہ لڑکوں سے زیادہ نمبر ملا کرتے۔ انہیں اپنے پسندیدہ طلبہ پر طاقت حاصل تھی۔ ہم جانتے تھے کہ ان کا رویہ مسائل سے بھرپور ہے، اور ہمارے سینیئر بھی یہ بات جانتے تھے، مگر شکایت کر کے ہم اپنے کریئرز کو خطرے میں ڈالتے۔ ہمیں خبردار کیا گیا تھا کہ کچھ پروفیسرز اور کچھ لڑکوں سے ہمیں دور ہی رہنا ہے۔ یہ بہت ہی پریشان کن ماحول تھا۔ مجھے اس سے نفرت تھی۔”

خراب ماحول

ضروری نہیں کہ برا رویہ صرف جنسی ہو، تبھی اسے ہراساں کرنا تصور کیا جائے۔ حقیقت میں مرد باسز کی روز مرہ کی حرکات بھی خواتین ماتحتوں کے لیے کام کا ہتک آمیز ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔

ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والی خواتین اکثر بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے مینیجرز ان کے کام اور ان کی قدر کو گھٹاتے ہیں؛ نامناسب طور پر چھوتے اور تبصرے کرتے ہیں، ڈراتے ہیں؛ اور اکثر باسز ہی ان کی کامیابیوں کا کریڈٹ لے جاتے ہیں۔

اسکول ٹیچرز کہتی ہیں کہ ان سے اکثر جنسی تعلقات کے بدلے میں پروموشن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایک کا کہنا تھا کہ انہیں “بار بار” باتھ روم جانے پر سب کے سامنے مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔

سیاستدانوں نے کہا کہ انہیں اکثر ان کی وضع و قطع پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ نسوانیت کا مظاہرہ نہ کریں کیوں کہ اسے قائدانہ صلاحیتوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے، اور نہ ہی زیادہ مردانگی کا مظاہرہ کریں کیوں کہ وہ مرد نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مردوں کی دنیا میں انہیں طاقت حاصل کرتے دیکھنا زیادہ تر لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ قانون ساز اسمبلیاں جہاں خواتین کے حق میں قوانین منظور ہوتے ہیں، وہ بھی روز مرّہ کے صنفی تعصب سے محفوظ نہیں۔

پارلیمنٹ میں صنفی تعصب

جنوری 2017 میں مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی کی سندھ اسمبلی میں دوسری مدت تھی اور وہ حکمراں جماعت کے کچھ مرد ارکان کی جانب سے بار بار کی جملے بازی کی عادی ہو چکی تھیں۔

لیکن پھر بھی انہوں نے ‘بس، اب بہت ہوچکا’ کا فیصلہ کیا جب پی پی پی کے امداد پتافی نے پوچھے گئے ایک سوال کے ردِ عمل میں انہیں ‘تسلی بخش جواب’ کے لیے اپنے چیمبر میں آنے کے لیے کہا، جس پر حکمراں جماعت کے دوسرے ارکان نے قہقہے بھی لگائے۔ نصرت نے دھمکی دی کہ اگر پتافی نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ خودکشی کر لیں گی۔

ڈان سے گفتگو میں نصرت کہتی ہیں کہ “مجھے تب تک نہیں سمجھ آیا جب تک دوسری خواتین نے بتایا نہیں تھا۔ مجھے جواب دینے کا موقع نہیں ملا کیوں کہ پی پی پی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے میرا مائیک بند کر دیا تھا۔ انہوں نے میرا دفاع نہیں کیا۔ میں مرد ارکانِ اسمبلی کی مسلسل بدزبانی اور سیٹیوں سے تن آ چکی تھی۔”

“وہ سمجھتے ہیں کہ مخصوص نشستوں پر موجود خواتین اپنی میرٹ پر [منتخب] نہیں ہوتیں۔ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ جب وہ جملے بازیوں میں مصروف ہوتے ہیں تو اس وقت ہم کام میں مصروف ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ قانون سازی کرواتے ہیں۔” بالآخر جب بلاول اور اصیفہ بھٹو زرداری نے دباؤ ڈالا تو پتافی نے ایوان میں کھڑے ہو کر نصرت سے معافی مانگی۔

یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا۔ کئی خواتین قانون ساز ایسے نامناسب جملوں کا سامنا کرتی ہیں جن کا مقصد انہیں سب کے سامنے شرمندہ کرنا ہوتا ہے۔ جون 2016 میں اس وقت کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو ‘ٹریکٹر ٹرالی’ کہا؛ اپریل 2017 میں پی پی پی کے خورشید شاہ نے کہا کہ اگر خواتین کو ‘باتیں’ کرنے سے روکا گیا تو وہ ‘بیمار پڑ جائیں گی’؛ نومبر 2014 میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی خواتین حامی ‘بدکردار’ تھیں۔ اس رویے کی مذمت کرنے میں ناکامی پر زیادہ تر خواتین قانون ساز مرد رہنماؤں سے ڈانٹ کے خوف سے پارٹی کی حمایت جاری رکھتی ہیں۔

ہراساں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی نگہت داد کا کہنا ہے کہ جب خواتین خود ہراساں کرنے والوں کو بچائیں، تو اصل میں وہ ان مردوں اور ان کے رویوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوتی ہیں۔

“اپنے اپنے مفادات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ایسا ہو چکا ہے۔ آپ ان کے رویے کے بارے میں جانتے ہوئے بھی خاموش رہیں گے۔ اچھے تعلقات لوگوں کو طاقت اور اختیار فراہم کرتے ہیں اور لوگ اپنے حلقے کھونا نہیں چاہتے۔ اکثر اوقات ہراساں کرنے والے کمزور ہوتے ہیں، مگر ہراساں کرنے کو ممکن بنانے والے انہیں مضبوط ہونے، حلقوں کے اندر رہنے، اور الگ تھلگ نہ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ ان طاقتور حوصلہ افزاؤں کو شکایت کنندگان کے آس پاس زیادہ نہیں دیکھیں گے، چنانچہ وہ کمزور اور الگ تھلگ ہوجاتے ہیں۔”

ہراساں کرنے کے مقدمات دیکھنے والے وکیل کہتے ہیں کہ خاموشی اور رازداری کی وجہ سے ہراساں کرنے والے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر کسی عورت کو خاموش نہ کروایا جا سکے تو وہ یقینی بناتے ہیں کہ خاتون پر کوئی یقین نہ کرے اور اسے شرمندہ کیا جائے۔ ہراساں کرنے والا شخص جتنا زیادہ طاقتور ہوگا، وہ اپنے حامیوں کے ذریعے اس خاتون کی بات کو جھٹلانے میں اتنا ہی کامیاب رہے گا۔

فرض کی راہ میں

سینیئر پولیس افسر ماریہ تیمور تسلیم کرتی ہیں کہ فوسر میں موجود خواتین ہراساں کرنے کے بارے میں اتنی بات نہیں کرتیں جتنی کہ کی جانی چاہیے۔

“اونچی سطح پر تو ہمیں ہراساں کرنے کا اتنا سامنا نہیں کرنا پڑتا، مگر نچلی سطح پر نئی کانسٹیبلز اور اے ایس آئی اس کا سامنا بہت کرتی ہیں۔ فورس میں موجود خواتین اپنے ڈی پی اوز یا سی پی اوز کے پاس شکایت لے جا سکتی ہیں اور مردوں کو شٹ اپ کال دینا سیکھ چکی ہیں۔ مگر اکثر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس کئی ضلعوں میں ہراساں کرنے کے خلاف مہمات چلتی ہیں، ہم ذہنیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ ایک سست مرحلہ ہے۔”

ماریہ ایک اور مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ: “آپ ہراساں کرنے والے کو نہیں پہچان سکتے کیوں کہ اکثر ان کی عوامی ساکھ اتنی قابلِ عزت ہوتی ہے کہ ان کے لیے اپنے نقشِ پا چھپانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔”

لاہور کے لوئر مال پولیس اسٹیشن کی اے ایس آئی عظمیٰ 12 سالوں سے مردوں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔

“ٹھرک جھاڑتے ہیں عادت سے مجبور”۔ بھلے ہی فورس میں موجود خواتین مشکل صورتحال میں بھی خود پر قابو رکھ سکتی ہیں مگر وہ تسلیم کرتی ہیں کہ کچھ مرد انہیں خراب شہرت کی حامل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

“کیا بکواس ہے۔ خواتین اس لیے کام کرتی ہیں کیوں کہ انہیں ضرورت ہوتی ہے۔”

پھر بھی ہراساں کرنے کا سامنا کرنی والی خواتین دو برے انتخاب کے درمیان پھنس جاتی ہیں۔

سامنا کرو یا نکل جاؤ

سروے میں حصہ لینے والی آدھی سے زیادہ خواتین نے کہا کہ اگر انہیں ہراساں کیا گیا تو وہ نوکری چھوڑ دیں گی۔ 12 فیصد نے کہا کہ کام کی جگہ اور گھر والوں کے ردِ عمل سے فیصلہ ہوگا کہ انہیں رکنا چاہیے یا نہیں۔ مگر کئی نے تسلیم کیا کہ ہراساں کرنے کو نظرانداز کرنا یا کام چھوڑ دینا مسائل میں صرف اضافہ ہی کرے گا۔

“اگر ایک عورت نے ہراساں کرنے کا سامنا نہیں کیا، تو کوئی اور کرے گی۔ اس لیے ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

وومن اِن اسٹرگل فار امپاورمنٹ نامی پروگرام سے تعلق رکھنے والی بشریٰ خالق کہتی ہیں کہ پنجاب محتسب کے پہلے کیسز میں سے 2014 میں ایک محکمہ زراعت کی جونیئر کلرک کی شکایت تھی۔ آفس میں وہ واحد خاتون تھیں اور چھے ماہ تک ان کے ساتھی ان کی شہرت خراب کرتے رہے، ان کی موجودگی میں گندے لطیفے سناتے رہے اور ان کے چہرے پر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے رہے۔ “جب محکمہ انہیں سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہا تو بالآخر ان کا خاندان پولیس کے پاس گیا۔ 11 لوگوں کو شکایت میں نامزد کیا گیا اور ہر کسی کو الگ الگ سطح کی سزائیں دی گئیں۔

مگر ایسے نتائج غیر معمولی ہیں۔ انٹرویوز کے دوران خواتین نے بتایا کہ کس طرح ہراساں کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی تقریباً غیر موجود ہے، ایسے معاشرے میں جہاں طاقتور مرد سزا سے بالاتر ہیں۔ “زیادہ سے زیادہ انہیں کلائی پر طمانچہ پڑتا ہے۔”

اپنے آپ میں ایک قانون

ایک خاتون وکیل نے اپنے شعبے میں موجود غلط رویوں کی نشاندہی کی۔ “میرے [سابق] باس جو کہ ایک طاقتور سینیٹر اور وکیل سیاستدان تھے، نے میری جانب غیر مطلوبہ جنسی پیشرفت کی۔ مجھے بتایا کہ سول کورٹس میں خواتین وکلاء 500 روپے میں بکتی ہیں اور یہ کہ وہ کئی “خوبصورت خواتین پارلیمینٹیرینز” کے ساتھ سو چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے گلے لگانے کی کوشش کی۔ اور جب میں نے انہیں واضح طور پر کہا کہ یہ غلط حرکت ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی آخری ماتحت ایک ٹام بوائے لڑکی تھی اور وہ کبھی بھی انہیں گلے لگانے سے ہچکچاتی نہیں تھی۔ میں نے وہ لاء چیمبر چھوڑ دیا۔”

اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک اور وکیل نے ایک سینیئر وکیل کے بارے میں لکھا جو کہ ایک ہائی کورٹ جج کے بیٹے تھے۔ وہ آدھی رات کو انہیں درجنوں غیر مناسب موبائل پیغامات بھیجا کرتے۔

“میں نے کبھی بھی انہیں جواب نہیں دیا اور اگلی صبح کام پر ان سے سلام دعا ہوتی جیسے کہ کچھ ہوا نہیں۔ فرم میں ہراساں کرنے کے خلاف کوئی پالیسی یا قواعد نہیں تھے۔ مجھے [آس پاس کے لوگوں نے] یقین دلایا کہ یہ معمول ہے اور پیغامات بند ہوجائیں گے۔ جب میں نے چھوڑ دیا تو ان کا ایک اور پیغام آیا جس میں انہوں نے مجھے فاحشہ کہا تھا۔”

کام کی جگہ پر حقوق کے نفاذ میں رکاوٹیں

بشریٰ خالق کہتی ہیں، “جنسی طور پر ہراساں کرنا خواتین پر طاقت اور اختیار کا معاملہ ہے۔ کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ایکٹ کا مقصد رویوں کی درستگی ہے، اس میں عدالتیں اور پولیس براہِ راست شامل نہیں ہیں۔” 2010 میں اپنے نفاذ اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 میں ترمیم کے بعد اب حقیقی چیلنج اس پر عملدرآمد ہے۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھلے ہی عوامی مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کی سزا قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں، مگر فوجداری نظامِ انصاف کی خامیوں کی وجہ سے اس قانون نے اپنا مقصد حاصل نہیں کیا ہے۔

اس دوران بھلے ہی سول قوانین کے تحت اداروں کے لیے ضابطہءِ اخلاق تیار کرنا اور اندرونی طور پر انکوائری کمیٹیاں تشکیل دینا لازم ہے، مگر پھر بھی ادارے ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم مہرگاہ کی ملیحہ حسین کہتی ہیں، “ادارے یہ نہیں کہتے کہ وہ عمل نہیں کریں گے، مگر بس عمل نہیں کرتے۔ پی ٹی وی سے کمیٹی نامزد کروانا بہت زیادہ مشکل تھا۔ دوسری جانب بینک زیادہ عملدرآمد کرتے ہیں کیوں کہ اسٹیٹ بینک کے آڈٹ میں یہ بات شامل ہے۔”

اس قانون کے تحت اگر شکایت کنندہ اندرونی کمیٹی سے مطمئن نہیں ہے تو وہ اپنے متعلقہ محتسب سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ مگر 8 سال گزر جانے کے باوجود اس وقت صرف سندھ وہ صوبہ ہے جہاں محتسب موجود ہیں۔ پنجاب میں اپریل 2017 سے کوئی محتسب نہیں ہے۔ اور جہاں سابق وفاقی محتسب برائے ہراسگی ریٹائرڈ جسٹس یاسمین عباسی کے مطابق فیصلوں پر عملدرآمد تقریباً ہوتا ہے، وہاں وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ہائی کورٹس کبھی کبھی پیش رفت روکنے کے لیے دائرہ کار نہ ہونے کے باوجود حکمِ امتناع جاری کر دیتی ہیں۔

بشریٰ خالق کہتی ہیں، “مانا کہ خواتین کے لیے حمایت کی کمی کی وجہ سے بولنا مشکل ہوتا ہے مگر وہ اب زیادہ باشعور ہیں اور جانتی ہیں کہ انہیں یہ سہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ #MeToo یعنی ‘میں بھی’ کی بین الاقوامی گفتگو اب نچلی سطحوں تک پہنچ چکی ہے۔” اور ان سب گفتگو کے اثرات کیا ہیں؟ اپنے شعبے کے بارے میں عباسی سمجھتے ہیں کہ بولنے سے یہ ضرور یقینی بنے گا کہ “نوجوان خواتین کے لیے سیاست میں داخلے کا راستہ اتنا مشکل نہیں ہے۔”

محتسبِ سندھ کی سابق خصوصی مشیر عظمیٰ الکریم کے مطابق صرف ذہنیتوں میں تبدیلی سے ہی خواتین کے کام کرنے کی جگہیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ مگر تب تک کے لیے “ہمیں قانون نافذ کرنا ہوگا تاکہ کام کے ماحول میں ہر طرح کے ہراساں کرنے کے خلاف مکمل عدم برداشت ہو۔”

Comments

comments

پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہوں پر کیسے ہراساں کیا جاتا ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top