Urdu

چیف جسٹس پاکستان نے خدیجہ پر تشدد کے ملزم کی رہائی کا نوٹس لےلیا

تفصیلات کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والی قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر 23 مرتبہ چھریوں کا وار کرنے والے شاہ حسین کو گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے باعزت بری کردیا تھا۔ خدیجہ صدیقی پر حملہ کرنے والے شاہ حسین کو اس سے قبل سیشن عدالت کی جانب سے 7 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے شاہ حسین کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے باعزت بری کردیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد خدیجہ صدیقی نے اسے انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔ اب چیف جسٹس نے اس تمام معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ سے خدیجہ صدیقی کے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

خدیجہ کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 10جون کو ہوگی۔ اس سے قبل اپنے ہی ہم جماعت کے ہاتھوں چھری کے 23واروں کا نشانہ بننے والی خدیجہ صدیقی سے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں پوچھا گیا کہ کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے کہ آپ کو سیشن کورٹ میں ایک جج نے کہا کہ آپ اس کیس کو فالو کیوں کر ہی ہیں۔

آپ صلح کیوں نہیں کر لیتی ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی۔اور میں دو تین دن تو یہی سوچتی رہی کہ مجھے ایسا ایک جج نے کہا ہے کہ آپ صلح کر لیں۔خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ مجھے چیمبر میں بلا کر مجرم کے والد کے سامنے صلح کرنے کے لیے کہا گیا اور میں نے عدالت میں جواب دیا کہ میں صلح نہیں کرنے جا رہی تو مجھے کہا گیا کہ یہاں تو بڑے بڑے قتلوں کے کیسز میں صلح ہو جاتی ہے تو آپ کا کیس کیا چیز ہے۔

تو میں نے کہا کہ یہ معمولی کیس آپ لوگوں کے لیے ہو گا ۔میرے لیے یہ ہمارےمعاشرے کا ایک مسئلہ ہے۔جس کے خلاف میں کھڑی ہوئی ہوں۔اور جس طرح کا سلوک خواتین کے ساتھ عدالتوں میں ہوتا ہے میں اس کے خلاف بھی کھڑی ہوں اور کھڑی رہوں گی،اس کے علاوہ مجھے جج صاحب نے یہ بھی کہا کہ آپ وہ مقصد بھی بتائیں کہ آپ پر حملہ کیوں کیا گیا۔جج کا کہنا تھا کہ آپ نے مجرم کی بے عزتی کی ہو گی اس لیے انہوں نے آپ پر حملہ کیا ہو گا۔
خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے بھی مجھے صلح کرنے کے لیے کہا۔اور کہا کہ مجرم کو معاف کر دوں۔خدیجہ صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر گورنر پنجاب مجھ پر صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں تو یقینا وہ جج پر بھی دباؤ ڈال رہے ہوں گے۔یاد رہے کہ 2 سال پہلے لاہور میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر اس کے ہم جماعت شاہ حسین نے حملہ کیا تھا۔

ملزم نے خدیجہ کی چھوٹی بہن کے سامنے خنجروں سے حملہ کردیا تھا۔ مجرم نے خدیجہ پر خنجر کے 23 وار کیے جس سے خدیجہ شدید زخمی ہوئی تھی تا ہم اس حملے میں اس کی جان بچ گئی ۔جس کے بعد اس نے بڑے باپ کے بگڑے ہوئے بیٹے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے خلاف کیس کر دیا جس کی سماعت لاہور کی مقامی عدالت میں ہوئی تھی ۔ اس سارے عرصے میں خدیجہ صیقی کو کافی مشکلات ،دباو اور ملزمان کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن خدیجہ ڈٹی رہی اور آخرکار 29 جولائی 2017 کو خدیجہ صدیقی کو کامیابی ملی اور سوا سال بعد ملزم شاہ حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

مقامی عدالت نے خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے شاہ حسین کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ نے میڈیا اور وکلا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، 23 خنجروں کا حساب لینا تھا جو مل گیا۔تاہم اس کے بعد ملزم نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل کا موقف کا تھا کہ واقعے کی گواہیاں قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔

Comments

comments

چیف جسٹس پاکستان نے خدیجہ پر تشدد کے ملزم کی رہائی کا نوٹس لےلیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top