Urdu

’’کاسٹنگ کاؤچ ‘‘ مشہور بھارتی اداکارہ اور آئٹم گرل راکھی ساونت نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے شرمناک واقعات کا پردہ چاک کر دیا

ندوستانی فلم انڈسٹری کی انتہائی بے باک ، بولڈ اداکارہ اور مشہور’’ ڈانسنگ گرل‘‘ راکھی ساونت نے بھی بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ (فلم میں کام دینے کے لئے جسمانی تعلقات قائم کرنے کی شرط) کے حوالے سے لب کشائی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اپنے کیرئیر کے آغاز میں مجھے بھی کاسٹنگ کاؤچ کا شکار ہونا پڑا تھا ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راکھی ساونت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے اعتراف کیا کہ ہندوستانی فلم اندسٹری میں جنسی بد عنوانی پورے شد و مد کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ بھی اپنے فلمی کیرئیر کے آغاز میں کاسٹنگ کاؤچ کا شکار ہو چکی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرے ساتھ کاسٹنگ کاؤچ کا معاملہ ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا کہ انہیں بھی کاسٹنگ کاؤچ کے شرمناک مرحلے سے گذرنا پڑا

مگر میں نے اپنے اندر چھپی ہوئی فنکارانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی اور ہار نہیں مانی ۔انہوں نے کہا کہ فلمی کیرئیر کے ابتدائی دور میں مجھے بھی بعض پرڈیوسرز اور ڈائریکٹرز نے کاسٹنگ کاؤچ کے لئے مجبور کیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ ہر پر ڈیوسرز اور ڈائریکٹرز جس کے پاس میں کام کے لئے گئی وہ سب گناہ گار اور اس مکروہ دھندے میں ملوث تھے ۔راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ دوسرے شعبوں کی طرح بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی جنسی بد عنوانی ہوتی ہے ،جہاں تک میرا معاملہ ہے میرے ساتھ ایسا ابتدائی دور میں ہوا تھا تاہم میرے پاس ’’صلاحیت ‘‘ تھی اس لئے میں بالی ووڈ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی اور ہار نہیں مانی ۔واضح رہے کہ اس وقت بھارتی فلم انڈسٹری میں ’’کاسٹنگ کاؤچ کے حوالے سے مشہور کوریو گرافر سروج خان کے متنازعہ بیان کے بعد ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہر بھارتی فنکارہ اس فیلڈ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے شرمناک واقعات کے خلاف کھل کر اظہار خیال کر رہی ہیں ۔مشہور بھارتی اداکارہ ماہی گل نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے کاسٹنگ کاؤچ کے شرمناک واقعات بارے سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔

Comments

comments

’’کاسٹنگ کاؤچ ‘‘ مشہور بھارتی اداکارہ اور آئٹم گرل راکھی ساونت نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے شرمناک واقعات کا پردہ چاک کر دیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top