Urdu

کس کے وسیلےسےدعاکی جائےجوقبول ہو جاتی ہے

کس کے وسیلے سے دعا کی جائے جو قبول ہو جائے ۔حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن مسجد میں رسول اللہ ۖکی خدمت میں حاضرہو تو ایک بندہ وہاں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے اپنی دعا میں عرض کیا :اے اللہ میں تجھ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں کہ تیرا کوئی معبود نہیں تیرے سوا تو نہایت مہر بان اور بڑا محسن ہے ۔زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہےمیں تجھ سے ہی مانگتا ہوں اے زوالجلال والا کرام یا حی یا قیوم۔ تو رسول ۖ نے فرمایا کہ اللہ کے اس بندے نے اللہ کے اس اسم اعظم کے مکمل ویڈیودیکھنےکے لیے نیچے ویڈیوپرکلک کریں

وسیلہ سے دعا کی ہے کہ اس کے وسیلہ سے جب خدا سے دعا کی جائے تواللہ وہ دعا قبول فرماتا ہے ۔اور جب اس کے وسیلہ سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے ۔( جامع ترمزی سنن ابی داءود سنن نسائی سنن ابن ماجہ ) دعا کے معنی پکارنے اور بلانے کے ہیں . مطلب یہ ہے کہ اپنی حاجت کے لیے الله تعالیٰ کو پکارا جاۓ تا کہ وہ اس ضرورت کو پوری کرےالله تعالیٰ فرماتا ہےتم مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرونگا (المومن٦٠)جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی پکار کو قبول کرتا ہوںاور فرمایالوگو! اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو( الاعراف)حدیث میں آتا ہے جو شخص الله سے سوال کرتا ہے تو اسکو اللہ تعالیٰ تین چیزوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے(١)یا تو اسکی مراد پوری کر دیتا ہے.(٢) یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے

(دنیا و آخرت میں )(٣) یا اس کے زریعے سے آنے والی کوئی بری مصیبت دور کر دیتا ہے.ہر انسان دنیا میں آ کر کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہی ہے پھر اس پریشانی اور مشکل کو ختم کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے اور الله رب العزت کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا بھی کر تا ہے لیکن الله کو پکارنے کے انداز مختلف لوگوں کے مختلف رہے ہیں کسی کا گمان یہ ہے کے الله ہم جیسوں کی بات نہیں سنتا لہٰذا الله کے پاس قبر والوں کا وسیلہ لگانا چاہیے ہماری فریاد ان قبر والوں کے پاس اور انکی فریاد الله کے آگے حالانکہ ایسا نہیں ہے الله فرماتا ہے:”جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں (تو آپ کہ دیجیے) میں قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھ کو پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں”

Comments

comments

کس کے وسیلےسےدعاکی جائےجوقبول ہو جاتی ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top