Urdu

کیا آذان سنے بغیر افطاری کی جاسکتی ہے ؟ ایسا شرعی مسئلہ جو ہر روزہ دار کو لازمی جاننا چاہئے

لاہور(ایس چودھری)ماہ رمضان کے دوران خاص طور پر شہروں میں روزہ ٹی وی چینلز کے ساتھ ہی افطار کیا جاتا ہے ،اگر کانوں میں کسی قریبی مسجد سے ہوٹر یا افطار کے اعلان کی آواز پہنچ جائے تو روزہ دار افطار کرلیتے ہیں۔ٹی وی پر افطار کے وقت کا اعلان کردیا جاتا ہے اور افطار کی دعا کے ساتھ ہی لوگ روزہ کھول لیتے ہیں جبکہ ٹی وی سمیت مقامی طور پر مساجد میں بھی نماز مغرب کی آذان بعد میں سنائی دیتی ہے ۔اس موقع پر بہت سے لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا آذان سنے بغیر روزہ افطار کرنا درست عمل ہے ،کہیں اس سے روزہ ضائع تو نہیں ہوجاتا۔ افطاری کا درست طریقہ کیا ہونا چاہئے اس بارے میں ممتاز عالم دین مفتی عبدالقیوم ہزاروی کا اس بارے کہنا ہے کہ سحر وافطار کا شرعی مسئلہ قرآن و احادیث مبارکہ میں موجود ہے ۔انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ ”اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو“ جبکہ متفق الیہ احادیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت عاصم بن عمر بن خطابؓ ان کے والد محترم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” جب رات اس طرف سے آ رہی ہو اور دن اس طرف سے جا رہا ہو اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار روزہ افطار کرے“ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا ” اے فلاں ! اٹھو اور ہمارے لیے ستو گھولو“ عرض گزار ہوا” یا رسول اللہ ! شام ہونے دیجئے“ فرمایا کہ اترو اور ہمارے لیے ستو بناو۔ عرض کی ”یا رسول اللہ ! شام تو ہو جائے“ فرمایا کہ اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ عرض گزار ہوا کہ ابھی تو دن ہے۔ فرمایا کہ اترو اور ہمارے لیے ستو بناو۔ پس وہ اترا اور ان کے لیے ستو بنائے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمائے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار روزہ افطار کرے“ مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا روزہ افطار کرنے کا وقت غروب آفتاب ہے۔ جونہی غروب آفتاب ہو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” لوگ ہمیشہ خیر وخوبی سے رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے“ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود ونصاری دیر کیا کرتے ہیں“

جیسا کہ پہلے یہ بھی ذکر ہو چکا ہے کہ روزہ افطار کرنے کا وقت غروب آفتاب کے بعد ہے مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا جونہی وقت شروع ہو جائے روزہ افطار کر لینا چاہیے۔ تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔

مفتی عبدالقیوم ہزاروی نے بتایا کہ ہر کسی کو یہ جاننا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کس طرح افطار فرماتے تھے۔ حدیث مبارکہ میں ہے حضرت معاذ بن زہرہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا“

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے اگر کھجور میسر نہ آئے تو پانی سے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غروب آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار فرماتے تھے۔ کھجور ہوتی تو کھجور کےساتھ نہیں تو پانی کے ساتھ روزہ افطار فرماتے۔ باقی رہا مسئلہ دعا کا ،مروجہ دعا جو ہم مانگتے ہیں یہ تو نہیں لیکن یہ بھی اس میں چند الفاظ کا اضافہ ہے جو حضرت معاذ نے روایت کی ہے۔جہاں تک آذان کے سن کر روزہ کھولنے کا معاملہ ہے تو مساجد میں افطار کے بعد ہی آذان دی جاتی ہے ،یہ نہیں ہوتا کہ موذن آذان دینے بعد افطار کرے ۔یہ ایک احسن طریقہ ہے کہ مساجد اور چینلز اب وقت کے مطابق افطار کا اعلان کردیتے ہیں لہذا روزہ افطار کرلیناچاہئے ۔

Comments

comments

کیا آذان سنے بغیر افطاری کی جاسکتی ہے ؟ ایسا شرعی مسئلہ جو ہر روزہ دار کو لازمی جاننا چاہئے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top