Urdu

گناہ کا شوق اور عذاب کا ڈر

ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے پاس آیا، نوجوان تھا، کہتا ہے حضرت! گناہ کا مرتکب ہوتا ہوں، چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، ڈر بھی لگتا ہے کہ عذاب ہو گا تو کوئی طریقہ بتا دیں کہ میں عذاب سے بچ جاؤں اور گناہ بھی کرتا رہوں۔اللہ والے بڑے دانا بینا ہوتے ہیں، دھکے نہیں دے دیتے، وہ محبت و پیارسے بات سمجھاتے ہیں، دل میں اتارتے ہیں، حضرت نے فرمایا، ہاں، میں تجھے طریقہ بتاتاہوں۔ وہ بڑا خوش ہو گیا۔بات سننے کے موڈ میں آگیا، کہنے لگا کہ حضرت! وہ کون سا طریقہ ہے کہ میں گناہ بھی کرتا

رہوں اور عذاب و سزا سے بھی بچ جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی: پہلی تجویز: تو یہ ہے کہ اگر گناہ کرناہی ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کر لیا کرو۔ اب وہ سوچتا رہ گیا۔ کہنے لگا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ رب العزت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گناہ کروں یہ تو ممکن ہی نہیں۔دوسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر دوسری تجویز یہ ہے کہ تم رزق کھانا چھوڑ دو، اللہ سے کہہ دینا کہ نہ تمہارا کھانا کھاتا تھااور نہ تمہاری بات مانتا تھا، اس نے کہا، حضرت! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کھانا چھوڑ دوں؟ میں پھر زندہ کیسے رہوں گا؟تیسری تجویز: حضرت نے فرمایا، پھر تیسری تجویزپیش کرتاہوں اور وہ یہ کہ زمین و آسمان اللہ رب العزت ہی کا ملک ہے، اسی کی حکومت میں ہے اور بادشاہ کی نافرمانی

اس کے ملک میں رہ کر کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے باہر نکل کر نافرمانی کرنا، اللہ پاک بھی قرآن پاک میں عجیب انداز سے فرماتے ہیں۔ ’’اگر تمہارے اندر استطاعت ہے کہ زمین و آسمان کے کروں سے باہر نکل سکتے ہوتو نکل کر دکھلاؤ، نکلو گے کس دلیل سے نکلو گے۔‘‘ (سورہ رحمن:33)، (جیسے گھڑے کی مچھلی کدھر جائے گی) کہا کہ حضرت! یہ بھی نہیں ہو سکتا۔چوتھی تجویز: فرمانے لگے اچھا پھر ایک طریقہ اور بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب ملک الموت آئیں روح قبض کرنے کے لیے تو انہیں کہہ دینا کہ تھوڑا انتظار کر لو تاکہ میں توبہ کر لوں، اس نے کہا: حضرت! وہاں تو انتظار کا تصور ہی نہیں۔ ’’جب موت آتی ہے تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے اور نہ پیچھے۔‘‘ پانچویں تجویز: فرمایا، ایک طریقہ اور بتاتا ہوں،

وہ یہ کہ جب قبر میں تم کو دفن کر دیا جائے اور اس وقت منکر نکیر آئیں تم سے سوال پوچھنے کے لیے تم کہہ دینا (No Admission without permission) آج کل لوگ لکھ کر لگا دیتے ہیں، تو تم بھی کہہ دینا کہ بغیر اجازت کیوں آئے؟ اس نے کہا، حضرت! میں ان کو کیسے منع کر سکتاہوں۔چھٹی تجویز: فرمانے لگے، اچھا بھئی! ایک اور طریقہ بتاتا ہوں وہ یہ کہ جب قیامت کے دن تمہارے برے عملوں کو کھولا جائے گا،اور پروردگار عالم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ اس کو گھسیٹ کر تم جہنم میں ڈال دو تو اس وقت تم ضد کرکے کھڑے ہو جانا کہ میں تو نہیں جاتا۔ اس نے کہا کہ حضرت! میری کیا حیثیت ہے کہ فرشتوں کے سامنے ضد کرکے کھڑا ہو جاؤں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اب لوہاگرم تھا اور چوٹ لگانے کاوقت تھا۔

حضرت نے فرمایا کہ اے بھائی، جب تیری حیثیت ہی کوئی نہیں تو اتنے بڑے پروردگار کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟کہنے لگا، حضرت! آج سے میں گناہوں سے توبہ کرتاہوں اور آج کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

Comments

comments

گناہ کا شوق اور عذاب کا ڈر
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top