Urdu

گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی

ے کال ڈراپ کردی پھر چند لمحے بعد پھر ہمت کر کے کال ملائی پھر اسی آواز نے فون اٹھایا ھیلو کون اے؟ ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے ھیلو کیا . آگے ایک دم سے آواز آئی “نازی” پتر توں؟؟؟؟ کیا حال ہے پتر. تو ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی پتر کیوں ماں باپ کی عزت خاک میں ملا دی . بھائی تیرے خون کے پیاسے ہوے ہیں کہاں ہے

ہیں کہاں ہے تو.تو ٹھیک تے ہے نا پتر. کتھے آں تو؟ نازی کا رو رو کر برا حال تھا.. کچھ نا بولی اسکی ماں بولتی چلی گئی پوچھتی چلی گئی… لیکن نازی جیسے بے سدھ کھڑی رہی جیسے سکتے میں ہو.” پھر اماں کی طرف سے سوال ہوا پتر تو ہے کہاں اتنے سال ہوگئے تو خوش تے ہے ناں ؟

آخر ماں تھی ماں کی محبت تو ختم.نہیں ہوتی . نازی صرف اتنا بولی . ہاں امی” میں خوش ہوں” اتنے میں دروازے سے نازی کا شوہر گھر میں داخل ہوا نازی نے گھبراتے ہوے فون بند کیا اور ڈر سی گئی. شوہر نے داخل ہوتے ہی پوچھا کس سے فون پر لگی تھی میری غیر حاضری میں تم دوسرے مردوں سے گپیں لگاتی ہو . تم میرے ساتھ بھاگ کر آئی ہو کسی اور کے ساتھ بھی بھاگنے کا ارادہ ہے ؟بے اعتباری عورت……!!! گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو ” جان نثار” کی والہانہ سچی محبت. “اندھے قانون”کی لاٹھی . “دنیا” کے ہر مذہب کی رضا “مجبور ” والدین” کی رضامندی . “غیرت مند” بھائیوں کا وقتی سمجھوتہ . ” یار دوستوں ” کی “دلی” خوشی اور “اپنے” ضمیر کی آواز کا اطمینان مل بھی جائے لیکن !!! اُسے ” عزت” کبھی بھی نہیں ملتی .

اپنی ساری زندگی کی قیمت پر بھی نہیں. اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے بھی نہیں. اسے صرف سمجھوتے کرنے ہوتے ہیں. وہ سمجھوتے جن سے فرار کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا. زندگی کا یہ گول چکر اسے ساری زندگی گزار کر ہی سمجھ آتا ہے. ” عزت” دنیا میں سب سے قیمتی اور کم یاب شے ہے جو ہمیں دوسروں کے رویےاور اپنے دل کی آنکھ میں اپنے لیے ملتی ہ

پُر مسرت زندگی گزارنے کےلیے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اور فطرت کا بندھن ٹوٹنے نہ پائے۔‘‘ یہ الفاظ اردو ادب کے مشہور و معروف سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کے ہیں۔ یہی بندھن موصوف کو عمر کے اِس حصے میں بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا اور اِن کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر لمحہ قدرت کی رنگینیاں دیکھتے جائیں۔ دیکھا جائے تو یہ ایک سیاح کی تعریف بھی ہے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

ایسے دیوانے ہر ملک و معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں جو ایک ایک منظر کےلیے گھنے جنگلوں کے بیچوں بیچ، رواں ندیوں کے کنارے کنارے، کسی جھیل پر اترتی دھندلی خنک شام میں، پہاڑی بستیوں میں تاروں بھرے آسمان کے نیچے، سردی سے منجمد ہوتے کسی گلیشیئر پر، ریت کے سمندر میں، پرانی تاریخی تہذیبوں کے کھنڈرات میں، کیمپ یا ہوٹل کی بالکونی سے طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے، دیوسائی جیسے سرسبز میدانوں میں، آبادیوں اور اپنوں سے کوسوں دور قدرت اور فطرت کے امتزاج کی چاہ میں بھٹکتے پھرتے ہیں؛ اور دنیا انہیں سیاح کے نام سے یاد کرتی ہے

Comments

comments

گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top