Urdu

ہائی بلڈ شوگر کی8 نشانیاں جسے ہونے سے پہلے آپ کا جسم آپ کو آگاہ کرلیتا ہے

شاید اکثر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ خون میں شوگر کی سطح کا بلند ہونا صحت کے لئے کتنا نقصان د ہ ہوتا ہے ۔ آپ کو چاہے چوگ کی بیماری ہو یا نہ ہو ہر دو صورت میں اس کی مقدار کا بڑھ جانا مختلف اعضاء کی خرابی ، اور شریانوں کے پھٹ جانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اور سب سے خطرناک صورت حال تب سامنے آتی ہے جب اس کی مقدار میں کمی نہ ہورہی ہو ۔ اگر اس میں فی الفور کمی نہ ہو تو بہت سی بیماریاں مزید لگ سکتی ہے
دراصل یہ نقصان کا سبب ا س لئے بنتا ہے کہ اکثر لوگوں کے اس کے نقصانات کے بارے میں پتا ہی نہیں ہوتا اور اس کے علامات کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا ۔ جس کی وجہ سے بے خبری میں لوگ مارے جاتے ہیں ۔ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی صحت ٹھیک رہے اور خون میں شوسگر کی سطح بھی کم رہے تو ان علامات کے بارے میں جاننا ضروری ہے تا کہ کسی بھی مستقبل میں پیدا ہونے مسئلہ سے ابتداء میں علاج ممکن ہو سکے ۔

مستقل پیاس لگنا

خون میں جب شوگر کی سطح زیادہ و جاتی ہے تو اس کی وجہ سے مستقل پیاس لگنی شروع ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ پولی یوریا ہوتا ہے ،۔ کیونکہ جب خون میں شوگر زیادہو تو گردے اس کو سنبھال نہیں پاتے جس کی وجہ سے گردوں سے یوریا کی بھاری مقدار خارج ہونےلگ جاتی ہے ۔ تا کہ اس شوگر پر قابو پایا جا سکے ۔ اس وجہ سے پیاس لگتی رہتی ہے ۔

کھانے کی طلب بڑھ جانا

مایو کلینک کے مطابق اگر کسی کو بے وقت بھوک لگنی شروع ہوجائے تو اس کی علامت ہوتی ہے کہ خون میں شوگر کی سطح بڑھ رہی ہے ۔ کیونکہ جب شوگر زیادہ ہوجائے تو خو ن میں مزید گلوکوز داخل نہیں ہوتا اور اس کی وجہ لبلبہ کا انسولیں کم کرنا یا بالکل ختم کر دینا ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ سے مزید کھانا ہمارے جسم کا حصہ بننے سے رک جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں طاقت کی سپلائی ختم ہوجاتی ہے اور پھر جسم مزید طاقت پیدا کرنے کے لئے خوراک طلب کرتا ہے ۔

پیشاب بار بار آنا

اس کا تعلق پیاس کے ساتھ ہے کیونکہ گردوں میں خشکی ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے بار بار پیاس لگتی ہے تو پانی کی چونکہ جسم کو ضرورت ہوتی نہیں اس لئے گردے انہیں باہر کی طرف دکھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے باربار پیشاب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ اگر ہر گھنٹے بعد یہی صورت حال ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ شوگر کی سطح بہت زیادہ ہے ۔ اس لئے فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنی کیفیت کے بارے میں آگاہ کریں

تھکاوٹ کا احساس ہونا

شاید آپ سوچ رہےہونگے کہ اگر کون میں گلوکوز زیادہ ہے تو جسم میں اسی حساب سے طقت ہونی چاہئے حالانکہ اس کا ؎برعکس ہوتا ہے ۔، کیونکہ آپ کو زیاد ہ پیاس لگتی ہے اس کی وجہ سے پیشاب بار بار آتا ہے اور گردے اپنے کام سے منپہ موڑ لیتے ہیں اور گلوکوز کو خون میں جذب نہیں ہونے دیتے کیونکہ پہلے ہی اس کی مقدار زیادیہوتی ہے اس وجہ سے جسم کو توانائی نہیں ملتی جس کا نتیجہ تھکان کی شکل میں سامنے آتا ہے
دھندلا پن ۔

ہائی شوگر کی وجہ سے آنکھوں کا کارنیا سوجھ جاتا ہے جس کی وجہ سے مناظر صاف دکھائی نہیں دیتے لیکن اکثر ایسے نہیں ہوتا اگر ہو بھی تو مختصر مدت کے لئے ہوتا ہے اور پھر ختم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اگر ایسا مسئلہ ہو تو انکھوں کے ڈاکٹر کے پاس جائے .

خشک جلد

اگر ایسا ہو تو سمجھ لیں کہ خون میں شوگر کی سطح زیادہ ہوگئی ہے ۔ اس کی وجہ سے ہمارے شریانوں کا نظام متاثر ہوتا ہے اور جسم میں نمی کا اخراج بھی کم ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ ایک دم سے نہیں ہوتا اگر مسلسل کئی سال ایسے ہو تو پھر جلد خشک ہونے لگ جاتی ہے

جنسی خواہش کی کمی

شوگر کی بلند ہونے کیوجہ سے مردوں میں جنسی خواہش کی کمی آجاتی ہے اور اور عضو تناسل میں بھی تناؤ پیدا نہیں ہوتا ، کیونکہ اس کی وجہ خون کی ترسیل کا کم ہوجانا ہوتا ہے۔، بلند سطح شوگر کی کون کی ترسیل کے ساتھ خون کی شریانوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔

وزن بڑھنا

شوگر کی وجہ سے انسولین بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کھانا بہتر طور پر ہضم نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز کم نہیں ہوپاتا ۔ اور اس کا نتیجہ موٹاپا ہوتا ہے ۔

یہ کچھ عام مثالیں تھیں جن سے پتا چلتا ہے کہ خون میں شوگر یا گلوکوز کی سطح بڑھ رہی ہے ۔ لیکن آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور خون میں شوگر زیادہ کیوں ہوجاتاہے ۔ اس کی وجہ ناقص خوراک کا ہونا ہے ۔ جن لوگوں کی خوراک ایسی ہو جو جلد ہضم ہو اور اس میں کلیوریز کی بھاری مقدار ہو ۔ ان کو اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس کی ساتھ جسم میں چکنائی بھی بن سکتی ہے۔

ورزش کا نہ کرنا

اس کی دوسری وجہ ورزش کا نہ کرنا بھی ہوسکتا ہے ۔ لوگوں کے خیال میں ورزش سے جسم مظبوط اور دل قوی ہوتا ہے لیکن یہ اس کے ساتھ آپ کے لبلبہ کو بھی متحرک رکھتا ہے اور جسم میں زائد گلوکوز کو بھی استعمال میں لاتا ہے ۔ اس لئے ورزش کیا کریں ۔، یا پھر کم سے کم آدھا گھنٹہ چہل قدمی ضرور کیا کریں ۔

ذہنی دباؤ

اس کی تیسری وجہ حد درجہ ذہنی دباؤ بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر یہ دونوںایک ساتھ ہو تو اس مطلب یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز بڑھ رہا ہے ۔

لیکن یاد رکھیں یہ علامات کسی اور وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اس لئے اگر ایسی علامات ہو توخود سے اپنا علاج نہ کریں اور نہ ہی پریشان ہو بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنا علاج کرائیں

Comments

comments

ہائی بلڈ شوگر کی8 نشانیاں جسے ہونے سے پہلے آپ کا جسم آپ کو آگاہ کرلیتا ہے
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top