Urdu

”یہ وہ آدمی ہے جس نے اداکارہ شبنم کے بیٹے اور شوہر کے سامنے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اب یہ تحریک انصاف میں شامل ہو گیاہے “یہ کون ہے ؟ ایسا دعویٰ کہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آ ن لائن )ن لیگ کی حکومت آج اپنی آئینی مدت پوری کرنے جار ہی ہے اور رات 12 بجے کے بعد اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور نگراں سیٹ اپ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گا تاہم عام انتخابات کے قریب آتے ہی وفاداریاں تبدیل کرنے کا بھی سلسلہ جاری ہے اور پی ٹی آئی اب تک ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی سو سے زائد وکٹیں گرا چکی ہیں تاہم اسی صورتحال میں ایک ایسے سیاستدان بھی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں جن سے متعلق ہوشربا انکشاف نے سوشل میڈیا پر تہلکہ برپا کر رکھا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے میں سینئر افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والے خرم مشتاق نے بھی مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ پر پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ”یہ فاروق بندیال ہے جس نے ادارکارہ شبنم کے گھر ڈاکہ ڈالا اوراسکے شوہر اور بیٹے کے سامنے اجتماعی زیادتی کی۔جرم ثابت ہوا اور سزائے موت ہوئی تاہم بعد میں اندرونی اور بیرونی دباو سے سزاعمر قید ہوگئی۔اب اسکوپی ٹی آئی میں خان صاحب کا دست شفقت میسر آگیا ہے۔“

حال ہی میں فاروق بندیال نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور وہ ٹرونسپورٹ کے پیشہ سے وابستہ ہیں ، ان کا تعلق ضلع خوشاب کے گاﺅں بندیال سے ہے ۔انہوں نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی تھی اور قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔

فاروق بندیال کے پارٹی میں شامل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر طوفان سا برپا ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں سمیت دیگر افراد بھی ان کے خلاف ٹویٹس کرنے میں مصروف ہیں اور دعویٰ کیا جارہاہے کہ یہ اداکار شبنم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اس جرم پر انہیں سزا بھی ہوئی ۔اس طرح کی ٹویٹس سے ٹویٹر اس وقت بھر ا پڑاہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے ۔

 

Comments

comments

”یہ وہ آدمی ہے جس نے اداکارہ شبنم کے بیٹے اور شوہر کے سامنے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اب یہ تحریک انصاف میں شامل ہو گیاہے “یہ کون ہے ؟ ایسا دعویٰ کہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top